Jan ۱۹, ۲۰۲۶ ۱۱:۱۵ Asia/Tehran
  • ایسا روبوٹ جو انسانوں کے ہونٹوں کی طرح حرکت دیکر باتیں کرسکتا ہے + ویڈیو

ایک جدید روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو انسانوں کی طرح ہونٹوں کو حرکت دے کر قدرتی انداز میں گفتگو کر سکتا ہے، جس سے مشینی بات چیت مزید حقیقت سے قریب تر ہو گئی ہے۔

سحرنیوز/سائنس/ٹیکنالوجی: اگر آپ کسی سے بات کر رہے ہوں تو ہماری آدھی توجہ چہرے پر خصوصاً ہونٹوں کی حرکت پر مرکوز ہوتی ہے۔

مگر اب تک روبوٹس اپنے ہونٹوں کو حرکت دینے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور جدید ترین روبوٹس بھی اس معاملے میں ناکام رہتے ہیں۔

مگر امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا روبوٹ چہرہ تیار کیا ہے جو ہونٹوں کو درست طریقے سے حرکت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جرنل سائنس روبوٹیکس میں شائع تحقیق میں اس روبوٹ چہرے کے بارے میں بتایا گیا۔

تحقیق کے مطابق یہ روبوٹ مختلف زبانوں کے الفاظ ادا کرسکتا ہے بلکہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کی بدولت گانا بھی گا سکتا ہے۔

روبوٹ کی یہ صلاحیت مشاہدے سے سیکھنے کی بدولت بہتر ہوتی ہے۔

سب سے پہلے اس نے یہ سیکھا کہ کس طرح اسے اپنے چہرے کی 26 موٹرز کو استعمال کرنا چاہیے جس کے بعد اس نے انسانی ہونٹوں کی حرکت کی نقل یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر کرنا شروع کی۔

 

ہمیں فالو کریں: 

Followus: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

محققین کے مطابق یہ روبوٹ انسانوں سے جتنی بات چیت کرے گا، اتنا زیادہ بہتر ہوتا جائے گا۔

روبوٹ کے ہونوں کی حقیقی حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین کو 2 چیلنجز کا سامنا تھا۔

پہلا چیلنج تو یہ تھا کہ انہیں ایسے خاص ہارڈ وئیر کی ضرورت تھی جو چہرے کی جِلد جتنا لچکدار ہو اور ایسی ننھی موٹرز سے لیس ہو جو برق رفتاری سے کام کرسکیں۔

دوسرا چیلنج ہونٹوں کی پیچیدہ حرکات کی درست نقل تھا۔

انسانی چہروں میں درجنوں مسلز نرم جِلد کے نیچے موجود ہوتے ہیں جو آواز اور ہونٹوں کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں روبوٹس کے چہرے سخت ہوتے ہیں اور زیادہ حرکت بھی نہیں کرپاتے، ہونتوں کی حرکت زیادہ سخت یا غیرلچکدار ہوتی ہے جس کے باعث ان کے بولنے کا عمل غیرفطری محسوس ہوتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ان مشکلات پر قابو پاکر ایک ایسا لچکدار چہرہ تیار کیا جس سے روبوٹ کو انسانوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے میں مدد ملے۔

اس کے لیے روبوٹ کے چہرے کو 26 موٹرز سے لیس کیا گیا اور پھر اس کے چہرے کے تاثرات اور ہونٹوں کی حرکت کو بہتر بنایا گیا۔

محققین نے اس کی صلاحیت کی جانچ متعدد طرح کی آوازوں، زبانوں اور تناظر سمیت گانوں سے کی۔

انہوں نے بتایا کہ اے آئی جیسے چیٹ جی پی ٹی یا جیمنائی کے ساتھ ہونٹوں کو حرکت دینے کی صلاحیت کے امتزاج سے انسانوں سے روبوٹس کا تعلق زیادہ گہرا ہوگا۔

ٹیگس