Feb ۰۸, ۲۰۲۶ ۱۰:۵۱ Asia/Tehran
  • امریکی اسٹار لنک کو چیلنج کرنے کیلئے چین کا نیا منصوبہ

ایک چینی میڈیا نے ملک کے محققین کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے ایک کمپیکٹ، ہائی پاور مائیکروویو سسٹم تیار کیا ہے جو ان کے دعوے کے مطابق، اسٹارلنک جیسے نچلے مدار کے سیٹلائٹس کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔

سحرنیوز/دنیا:  چائنا مارننگ پوسٹ نے "چائنا ہائی پاور لیزرز اینڈ پارٹیکل بیمز" کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملکی محققین نے دنیا کا پہلا "کمپیکٹ ڈرائیور" ہائی پاور مائیکروویو (HPM) ہتھیار تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے؛ ایک ایسا آلہ جو 60 سیکنڈ کے لیے 20 گیگا واٹ تک توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چینی محققین کے خیال میں، یہ پیشرفت نچلے مدار والے امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹس سسٹمز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

وانگ گانگ اور ان کی ٹیم نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ یہ سسٹم ایک آپریشن میں تین ہزار ہائی انرجی پلس (high energy pulse) فائر کر سکتا ہے اور یہ اب تک 200,000 سے زیادہ ٹیسٹ پلسز ریکارڈ کر چکا ہے، جو اس کے مستحکم آپریشن کو ظاہر کرتا ہے۔

جبکہ چینی ماہرین کے مطابق، ایک گیگا واٹ سے زیادہ کی انرچی نچلے مدار والے سیٹلائٹس کو خراب یا کمزور کرنے کی توانائی رکھتی ہے۔

اس ٹیم کے مطابق، ڈیزائن میں تبدیلیاں - ہلکے الائے کا استعمال، انسولیٹڈ راستوں کی اصلاح، اور کمپیکٹ انرجی سٹوریج جیومیٹری - نے مستحکم پاور لیول حاصل کرنا ممکن بنایا ہے اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے خلاف سستے حل تیار کرنے کی چین کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار اینٹینا، کیبلز اور موجود دراڑوں کے ذریعے شدید ریڈیو فریکوئنسی (RF) توانائی کو انجیکٹ کرکے الیکٹرانک سسٹمز میں داخل ہوتے ہیں، جس سے وولٹیج اور کرنٹ میں تباہ کن اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے، جو پرزوں میں خلل یا مستقل نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اس چینی سائنسی جریدے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار  2 سے 3 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈرونز کے خلاف مختصر فاصلے کے حملوں کے لیے استعمال ہونے والے "ہوریکن" (Hurricane) سیریز کے پچھلے ہتھیاروں کے مقابلے میں پاور، رینج اور انرجی تسلسل کے لحاظ سے کافی بہتر ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: Facebook,X,instagram,tiktok,whatsappchannel

چینی محققین، ٹین پاک اور یو-چینگ چن کے مطابق، ملک کی فوج HPMہتھیاروں کو کمانڈ سینٹرز، ریڈار سسٹمز، میزائل دفاع، پاور گرڈز اور کمیونیکیشنز جیسے اعلیٰ قدر والے الیکٹرانک اہداف کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک غیر جنبشی ابتدائی حملے (non-kinetic first strike) کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے، سائبر آپریشنز بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ اہم بات یہ کہ ایسے حملوں کو انجام دینے کے لیے زمینی، بحری یا یہاں تک کہ میزائل پلیٹ فارمز کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چینی سرکاری ذرائع کے مطابق، جدید برقی مقناطیسی جنگ "سامان بمقابلہ سامان" (Equipment vs. Equipment) سے "نظام بمقابلہ نظام" (System vs. System) میں تبدیل ہو گئی ہے، اور اس کا مقصد HPM اور لیزرز کے ذریعے دشمن کے معلوماتی اور کمانڈ نیٹ ورکس کو ناکارہ بنانا ہے۔

ٹیگس