• رہبر انقلاب اسلام کے خط کے دائرے میں ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد
    رہبر انقلاب اسلام کے خط کے دائرے میں ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد میں پی ایم ڈی سے متعلق امریکی فریق کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ پی ایم ڈی اور ایٹمی معاہدے کے بارے میں اعلی قومی سلامتی کونسل اور پارلمینٹ کے مراحل طے کرنے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے جو خط تحریر فرمایا ہے اس میں کچھ قیود لگی ہوئی ہیں کہ جن کی رعایت کی جائے گی۔


ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف ماضی کے مسائل، ایران کی ساکھ متاثر کرنے کی غرض سے انٹیلجنس ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر پیدا ہوتے رہے ہیں۔

دریں اثنا ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے نمائندے نے تاکید کی ہے کہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد، ایران کا جوہری کیس ختم ہونے سے مشروط ہے۔

حال ہی میں بعض ذرائع سے جاری ہونے والی رپورٹوں میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کا دارومدار، پی ایم ڈی یا ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی پہلوؤں کے بارے میں، کئے جانے والے دعوے پر آئی اے ای اے کی رپورٹ پر ہے۔

ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی چودہویں شق کے مطابق گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک، اس بات کے پابند ہیں کہ آئندہ ایک ماہ کے اندر آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں ایک قرارداد پیش کریں جس کا مقصد ایران کا جوہری کیس بند کرنا ہے۔

پی ایم ڈی کے موضوع کو ایران کی فوجی تنصیبات کے معائنے اور جوہری دانشور سے انٹرویو سے مربوط قرار دینا، ایک ایسی اہم خبر ہے کہ جس کا مغربی حلقوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے خوب پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ پہلا وہ نکتہ کہ جس سے، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک نے مذاکرات کے آغاز میں ہی اتفاق کیا ہے، یہ تھا کہ ایٹمی معاہدے میں ایران، ایڈیشنل پروٹوکول پر عارضی اور رضاکارانہ طور پر عمل کرے گا۔

ایران کی پارلیمنٹ بھی مناسب وقت پر اور مقابل فریق کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایڈیشنل پروٹوکول کی منظوری کے بارے میں ضروری فیصلہ کرے گی۔

سن دو ہزار چھے میں پہلی بار دعوی کیا گیا کہ ایران نے پارچین کی تنصیبات میں ممکنہ طور پر فوجی سرگرمیاں انجام دی ہیں مگر اس حوالے سے آئی اے ای اے نے جو دستاویزات پیش کیں وہ خودساختہ اور مکمل جھوٹی تھیں۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے اسی موقع پر تہران کے مشرق میں واقع پارچین فوجی تنصیبات کا دو بار معائنہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ اس مرکز میں فوجی جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی طرح کی سرگرمیاں انجام نہیں پائی ہیں۔اس وقت ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد اورباقی بچے تمام مسائل کے حل کی غرض سے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے دائرے میں تہران، روڈمیپ کی شقوں کے مطابق معاہدوں پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے اعتراف کے مطابق روڈمیپ میں طے شدہ پروگرام کے مطابق تہران نے، ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان باقی بچے، تمام موضوعات کے حل سے متعلق توضیحات پر مشتمل دستاویزات پیش کردی ہیں۔بنابریں ایٹمی معاہدے کے بارے میں غیر حقیقی مسائل پیدا کرنے کا مطلب، ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔

پی ایم ڈی کا کیس ختم ہونے کے اعلان پر مبنی آئی اے ای اے کے معاہدے پر ایران کے تیکنکی اقدامات کا متوازن ہونا، ان اہم نکات میں سے ہے کہ جن پر رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنے خط میں تاکید فرمائی ہے۔

اس سلسلے میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل اور پارلیمنٹ نے بھی کچھ نکات پیش کئے ہیں کہ حکومت، جن کی رعایت کرنے کی پابند ہے۔ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو خطرناک ظاہر کرنا، ایران کے خلاف مغرب کی تشہیراتی حکمت عملی کا بدستور حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے اس طرح کے خود ساختہ شبہات پر توجہ دینے کے بجائے روڈمیپ پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

ٹیگس

Nov ۱۷, ۲۰۱۵ ۱۶:۱۳ Asia/Tehran
کمنٹس