• قرآن کریم امت اسلامیہ کے اتحاد کا مظہر ہے : رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں منعقدہونے والےقرآن کریم کے تینتیسویں بین الاقوامی مقابلوں کے شرکا سے ملاقات میں قرآن مجید کو امت اسلامیہ کے اتحاد کا محور قراردیا-

رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں فرمایا کہ ایک ایسے وقت جب سامراج کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنا ہے ، امت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ اس الہی نعمت سے تمسک اختیارکرکے اتحاد کے راستے پر قدم بڑھائے - قرآن کریم آج مہجور و متروک ہے، قرآن کریم صرف ایک کتاب نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگی کا منشور ہے- قرآن جاویداں معجزہ ہے-

قرآن مجید میں ایک مسلمان کی ذمہ داریاں، روزانہ کی عبادتوں اور سماجی ذمہ داریوں کی مانند ذکر کی گئی ہیں- حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر انسان کامل کا نمونہ ہیں -

قرآن کریم اور سنت پیغمبر اسلام (ص) ، تمام اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے لئے دو اصلی محور ہیں لیکن آج کی دنیا میں بعض عناصر نے قرآن اور سنت پیغمبر اسلام (ص) کی تعلیمات سے غلط نتیجہ اخذ کرکے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلایا ہے اور وہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں- یہ افراد اپنی فہم اور سمجھ کا ملاک قرآن کو قرار دیتے ہیں اور تمام مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہوئے ان کو قتل کر رہے ہیں -

تکفیری گروہوں کے حامی بعض ممالک آج شام ، عراق ، یمن اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں- دشمنان اسلام اور ان میں سرفہرست امریکہ نے آج تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کے توسط سے نیابتی جنگ شروع کر رکھی ہے-

رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ بعض اسلامی ممالک خدا سے تمسک اختیار کرنے کے بجائے طاغوت سے تمسک اختیار کئے ہوئے ہیں فرمایا کہ وہ ممالک جو علاقے میں امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھارہے ہیں درحقیقت وہ امت اسلامیہ سے خیانت کررہے ہیں اور امریکا کے اثرورسوخ کا راستہ ہموار کررہے ہیں-

آپ نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ امریکا سب سے بڑا طاغوت اور بڑا شیطان ہے فرمایا کہ آج علما، دانشوروں اور روشن خیال افراد کی سب سے بڑی ذمہ داری دشمنوں کی فریب کاریوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا ہے اور امت اسلامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ بڑی طاقتوں کے وعدوں پر یقین نہ کرے اور ان کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہو -

رہبرانقلاب اسلامی نے قرآن کریم کو امت اسلامیہ کے اتحاد کا محور قراردیا اور اسلام اور امت اسلامیہ پر ضرب لگانے کے تعلق سے طاغوتی طاقتوں کی وسیع پیمانے پر انجام دی جانے والی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ طاقتیں جانتی ہیں کہ اگرمسلمان طاقتور ہوجائیں گے تو پھر وہ قوموں پر ظلم نہیں ڈھاسکیں گی اور فلسطین کے مسئلے کو جو ایک اسلامی ملک پر غاصبانہ قبضے کا مسئلہ ہے فراموش نہیں کیا جاسکےگا -

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکا کی توسیع پسندی اور بیجامطالبات کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت و پامردی اوران کے ایمان محکم کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قوت و عظمت کا اصل محرک قراردیا اور فرمایا کہ ایرانی عوام سے، بڑی طاقتوں کے خوف و ہراس اور ایرانی عوام کے خلاف ان طاقتوں کی طرح طرح کی سازشوں کی وجہ، اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر استوار اسلامی جمہوری نظام ہے اور دشمن، مقتدر اور طاقتور اسلام سے خائف ہے -

رہبرانقلاب اسلامی نے علاقے میں تکفیری دہشت گردگروہوں کو وجودمیں لانے اور دشمنوں کی نیابت میں مسلمانوں کے درمیان جنگ اور اختلاف پیدا کئے جانے کو گمراہی اور عوام کواندھیرے میں رکھے جانے کا نتیجہ قراردیا اور فرمایا کہ اس میں شک نہیں کہ کفرکا محاذ آخر کار اسلامی انقلاب کے محاذ کے مقابلے میں پسپائی اختیارکرنے پر مجبور ہوگا -

May ۱۸, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۲ UTC
کمنٹس