• شام کے بحران کے حل کے لئے ایران کی کوششیں

ایران روس اور ترکی کے مشترکہ گروہ کا بدھ کے روز تہران میں ایک اجلاس ہوا۔ یہ  اجلاس ایک اختتامی بیان جاری کرکے ختم ہوگیا۔

اس نشست میں شام میں تیس دسمبر دوہزار سولہ کو اعلان شدہ جنگ بندی کی دستاویزات کے مسودے، اسی طرح قیدیوں اور اغوا شدہ افراد کے تبادلے کا جائزہ لیاگیا۔ تہران نشست میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی شرکت کی تھی۔

تہران نشست کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہےکہ شام کے بحران کے تمام پہلووں پر توجہ کرنی چاہیے۔ ان پہلووں  میں فوجی پہلو ہے او دوسرا دہشتگری کا مقابلہ ہے اور شام کے گروہوں کے آپسی مذاکرات سے اس بحران کا سیاسی راہ حل نکالنا اور بحران کے انسانی پہلو پر توجہ کرنا ہے۔

اس بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ آستانہ مذاکرات اور سمجھوتے اور دیگر عالمی کوششیں شام کے بحران کے جلد از جلد خاتمے کی زمین فراہم کریں گی ۔

شام کےبحران کو جلد از جلد حل کرنے کےلئے تہران نشست کا بیان آگے کی طرف ایک قدم ہے یہ نشست دراصل ایران اور روس کے جدت عمل کے تحت کی جانے والی کوششوں سے عبارت ہے ۔ یاد رہے ترکی نے بھی ان مذاکرات میں ماسکو میں شرکت کی تھی۔ ماسکو میں تین ملکوں کے سمجھوتے کا پہلا ثمرہ شام میں جنگ بندی تھی۔ شام کے بحران کے نہایت وسیع رہنے کے پیش نظر شاید ہی کسی کو یہ توقع تھی کہ آستانہ اجلاس میں کسی حتمی نتیجہ تک پہنچا جاسکے گالیکن بدگمانیوں اور شکوک و شبہات کے باوجود آستانہ مذاکرات جینوا کے مذاکرات کی صف میں آگئے ہیں۔

یہ مذاکرات  نہات اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے یہ معنی ہیں کہ ایران اور روس کا جدت عمل دہشتگرد گروہوں کی خلاف ورزیوں اور مجرمانہ کاروائیوں کےباوجود جاری ہے۔ ہفتے کے دن حلب کے راشدین علاقے میں کفریا اور فوعہ کے علاقے میں کار بم دھماکوں میں سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔شہید اور زخمی ہونے والوں میں اچھی خاصی تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔ ایسی صورتحال اور ان مذاکرات کو درپیش چیلنج کے باوجود آستانہ اجلاس طے شدہ راستے پر آگے بڑھتا گیا۔اس وقت شام میں سیاسی اور جنگی صورتحال میں جو تبدیلیاں آئی ہیں شام کا بحران تازہ  مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

آستانہ میں شام کے متعلق جاری مذاکرات کے اختتامی بیان میں شام کی ارضی سالمیت اور دہشتگردوں سے مقابلے پر تاکیدکی گئی ہے۔تہران میں ماہرین کے مذاکرات بھی شام کے بارے میں چوتھی عالمی نشست کے مقدمات فراہم کرنے کے لئے منعقدکی جارہی ہے جو دوہفتوں کے بعد آستانہ میں منعقد ہوگی۔ ان حقائق کے پیش نظر شام میں جنگ کی صورتحال سے معلوم ہوتا ہےکہ شام میں امریکہ اور اسرائل کے کردار کو نیز دہشتگردوں کی حمایت میں قطر اور سعودی عرب کے کردار میں آنے والی تیزی سے غفلت نہیں کرنا چاہیے۔اس بات کا امکان ہے کہ سعودی عرب ٹرمپ حکومت سے نئے وعدے اور سمجھوتے کرکے شام میں وارد عمل ہوجائے۔

دمشق پر امریکہ کے نئے الزامات اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانا اور حالیہ دنوں میں حمص میں الشعیرات فوجی اڈے پر امریکہ کا حملہ وہ بھی کیمیاوی حملوں کو روکنے کی غرض، سے اس گمان کو تقویت پہنچتی ہے۔خان شیخون میں چار اپریل کے مشکوک کیمیاوی حملے میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک اور چار سو زخمی ہوگئے تھے۔ یمن میں سعودی عرب کی شکست کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ریاض یہ کوشش کررہا ہے کہ امریکہ کو براہ راست جنگ میں اترنےکی ترغیب دلائے تا کہ اس کے سائے میں وہ  بحران میں اپنی پوزیشن محفوظ رکھ سکے۔

بہرحال آستانہ مذاکرات اور تہران نشست شام کے بحران کو حل کرنے کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے ہرچند کہ شام میں امن و امان قائم کرنا نہایت دشوار ہے اور یہ جنگ سب سے زیادہ عوام کے لئے سختیوں کا باعث اور کٹھن بن چکی۔

 

Apr ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۰:۴۶ UTC
کمنٹس