• امریکہ کی یکطرفہ پسندی پر یورپی حکام کی تنقید

برطانوی وزیراعظم تھریسامئے اور برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربین نے امریکہ کے ہرطرح کے یکطرفہ اقدام پر تنقید کی ہے۔

تھریسامئے نے چند جانبہ پسندی کو گروپ سات کے رکن ممالک کے اقتصادی مفادات کے لئے بہترین راستہ قرار دیا اور کہا کہ اپنے شرکاء کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات سے گروپ سات کے رکن ممالک کے اقتصادی مفادات کو نہیں حاصل کیا جا سکتا- برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر جرمی کوربین نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ واشنگٹن کا امریکہ فرسٹ کا نعرہ برقرار ہے کہا کہ اس نعرے کا مطلب چندفریقی سمجھوتوں کو درہم برہم کرنا ہے- امریکی صدر ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں ، امریکہ فرسٹ کا نعرہ دے کر اور امریکی مفادات کے حصول پر تاکید کر کے فیصلوں اور موقف کے اعلان میں یکطرفہ اور یکجہتی کی منطق سے دور رہتے ہوئے عمل کیا ہے- اس یکطرفہ پسندی پر کہ جس سے بہت سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تنیقد ہوتی رہی ہے اور واشنگٹن کے اتحادی خاص طور سے یورپی ممالک برہم ہیں- پیرس کے ماحولیات سے متعلق معاہدے اور ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکلنا ، امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنا اسی طرح اسٹیل اور ایلمونیئم کی درآمدات پر نئے ٹیکس عائد کرنا ٹرمپ کے وہ جملہ اقدامات ہیں کہ جو واشنگٹن کے اتحادیوں اور شرکاء کو اہمیت نہ دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں- 

 ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے واشنگٹن کی پالیسیوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے دنیا کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد اس بات پر رکھی ہے کہ یا مدمقابل ملک پوری طرح اس کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کے دوستوں کی فہرست میں شامل ہوجائے یا اپنی مرضی اور پالیسیوں پر عمل کرے کہ اس صورت میں اسے واشنگٹن کی مخالفت اور غضب کا سامنا کرنا پڑے گا- تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی یہ روش شاید قلیل مدت میں امریکہ کے اکثر سیاسی و اقتصادی مفادات و اہداف پورے کردے تاہام طویل مدت میں بین الاقوامی نظام میں امریکہ کی پوزیشن اور حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی- اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کا رویہ بین الاقوامی نظام کے معیارات اورڈھانچے پرسوال کھڑے کرتے ہوئے عدم استحکام کا باعث ہوگا-جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بین الاقوامی سطح پر چند جانبہ پسندی اور تعاون کو کمزور کرنے کے سلسلے میں انتباہ دیتے ہوئے اسے گذشتہ صدیوں کی تجارتی اور عسکری مقابلہ آرائی اور المیوں کے دوبارہ رونما ہونے کا امکان بڑھنے کا باعث قرار دیا-

ٹرمپ کے یہ اقدامات ایسے عالم میں انجام پا رہے ہیں کہ امریکہ اب ماضی کی طرح سپرپاور اور غیرمتنازعہ طاقت نہیں رہ گیا ہے- برسوں سے دنیا چند قطبی ہوچکی ہے جس کا نتیجہ پیرس معاہدے عالمی بنیادوں پر اقتصاد کی تعریف جیسے معاہدوں پر دستخط کی شکل میں نکلا ہے - اس موضوع سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا اب ٹرمپ کی مطالباتی اور انحصارپسندانہ پالیسیوں کو قبول نہیں کرے گی- اس بنا پر یورپی حکام نے بھی ایٹمی سمجھوتے اور درآمداتی اشیاء پر ا‌ضافی ٹیکس عائد کرنے کے امریکی موقف کو تسلیم نہیں کیا اور چندجانبہ پسندی کی پالیسیاں جاری رکھنے پر تاکید کی ہے- 

فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے اس سلسلے میں کہا کہ ہم بیسویں صدی کے عالمی نظام کو ایک قسم کی جدید، موثرتر اور نتیجہ خیز چندجانبہ پسندی کی بنیاد پر تشکیل دے سکتے ہیں-

Jun ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۵ Asia/Tehran
کمنٹس