Nov ۲۴, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۳ Asia/Tehran
  • ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر یورپی یونین اور ترکی کی تاکید

ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے امریکی صدر ٹرمپ کے اقدام کی دیگر اراکین کی جانب سے سخت مخالفت کی جا رہی ہے

اس سلسلے میں ایٹمی سمجھوتے کے مغربی فریق جرمنی فرانس اور برطانیہ نیز یورپی یونین نے عالمی سلامتی کے لئے ایک اہم دستاویز کی حیثیت سے ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر تاکید کی ہے اور اسی بنا پر وہ چاہتے ہیں کہ ایران بھی اس اہم سمجھوتے کو جاری رکھے-

اس کے ساتھ ہی ترکی نے ایران کے ایک اہم پڑوسی کی حیثیت سے کہ جس کے تہران سے وسیع تعلقات ہیں ، ایٹمی سمجھوتے کی حمایت کرتے ہوئے واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسیوں کی بھرپور مخالفت کی ہے - اس سلسلے میں یورپی یونین اور ترکی نے انقرہ میں ایک مشترکہ اجلاس کے اعلامیے میں ایٹمی سمجھوتے کے معاملے میں ایران کے ساتھ اشتراک عمل اور تعاون جاری رکھنے پر تاکید کی ہے- 

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے ترکی کے وزیرخارجہ مولود چاووش  اوغلو سے ملاقات میں بھی ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر تاکید کی تھی - یورپ نے با رہا ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ اپنے اختلاف نظر اور ایران کے خلاف دوبارہ ایٹمی پابندیاں عائد کرنے کی مذمت پر تاکید کی ہے-  ایران نے ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کے لئے اس سمجھوتے سے امریکہ کے با ہر نکلنے کے بعد بھی یورپ کو اس سمجھوتے کو باقی رکھنے کا طریقہ کار پیدا کرنے کے لئے ایک موقع دیا ہے- اس کے ساتھ ہی یورپی یونین اور یورپی ٹروئیکا ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کا موقف یہ ہے کہ ایٹمی انرجی کی چودہ رپورٹوں کے مطابق ایران نے ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں اپنے معاہدوں پرعمل کیا ہے اور اس سلسلے میں ایٹمی انرجی کی صلاحیت و اختیارات کے پیش نظر ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے کی خلاف ورزی منجملہ ایران پرخفیہ ایٹمی پروگرام  کا بےبنیاد الزام یورپ کے لئے قابل قبول نہیں ہے-

یورپ کا موقف ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو درہم برہم کرنے اور اس سمجھوتے کو منسوخ کرنے کے عالمی امن و صلح پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے ساتھ ہی یورپ کی ساکھ کو بھی سخت نقصان پہنچے گا- یورپی کمشنر برائے انصاف ویرا جورووا کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا خیال ہے کہ ایٹمی سمجھوتے سے زیادہ پرامن اور معتبر کوئی سمجھوتہ ہے ہی نہیں اور ایٹمی سمجھوتے کا تحفظ عالمی امن کے لئے بہت اہم ہے -

ان تحفظات کے باعث یورپی یونین کے اعلی حکام منجملہ موگرینی اور بعض یورپی سربراہ ، ایٹمی سمجھوتے کی افادیت کے تحت اس کے تحفظ کے خواہاں ہیں- لہذا واشنگٹن کی دھمکیوں اور نفسیاتی جنگ کے پیش نظر بریسلزم نے ایٹمی سمجھوتے کی حفاظت کے لئے اپنے اقدامات جاری رکھنے پر تاکید کی ہے- یورپیوں نے ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد سے ہی اس سمجھوتے کی حفاظت اور ایران کے خلاف امریکہ کی ایٹمی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے منفی اثرات کو کم کرنے کی غرض سے  بڑے پیمانے پر تدابیر اختیار کی ہیں کہ جس میں ایران کے ساتھ تجارتی ، مالی اور انرجی کا لین دین جاری رکھنے کا طریقہ کار پیش کرنے اور بلاکنگ رول پر عمل درآمد بھی شامل ہے -

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی کھل کر اعلان کیا ہے کہ انقرہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گا- اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ حتی ترکی نیٹو میں امریکی اتحادی کی حیثیت سے بھی ایران کے سلسلے میں واشنگٹن کے موقف کو ناقابل قبول تعبیر کیا ہے اس کے باوجود حکومت ٹرمپ ، ایٹمی سمجھوتے میں شامل اراکین اور ترکی پر دباؤ ڈال کر ایران کے ساتھ لین دین بند کرانا چاہتی ہے- ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اپنی اس کوشش میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے اور وہ طاقت و دھمکی کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا موضوع کہ جو عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ امریکہ کی تنہائی کا بنا ہے-

ٹیگس