Nov ۱۵, ۲۰۱۹ ۱۴:۲۰ Asia/Tehran
  •  عالم اسلام مشترکہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہوجائے، رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے مندوبین سے خطاب میں اسرائیل کو جعلی صیہونی حکومت قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ فلسطین میں اس سرزمین کے اصلی باشندوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی ہوں، منتخب حکومت قائم ہونی چاہئے۔

تہران میں, بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے مندوبین، اسلامی ملکوں کے سفیروں، ملک کے اعلی حکام اور عوام کے مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس اجتماع سے خطاب میں فرمایا کہ دشمنان اسلام، جن میں امریکا سر فہرست ہے، اسلام اور سبھی مسلمان ملکوں کے مخالف ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے کے اہم اور حساس مراکز میں دراندازی، اقوام کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈالنا اور مسائل کی راہ حل کے عنوان سے، امریکا کے سامنے جھک جانے کی تلقین، ہمارے علاقے میں ان کا، یعنی دشمنان اسلام کا اہم ترین حربہ ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمنوں کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کا راستہ یہ ہے کہ حقائق سامنے لائے جائیں اور راہ حق میں استقامت سے کام لیا جائے۔ آپ نے اتحاد و وحدت کے درجے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اتحاد کا ابتدائی ترین درجہ اور اسلامی دنیا کو متحد کرنے کی راہ میں پہلا قدم یہ ہے کہ اسلامی فرقے، اقوام، معاشرے اور حکومتیں ایک دوسرے پر حملہ اور وار لگانے سے پرہیز کریں اور مشترکہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہوجائیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اتحاد کا اعلی تر درجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک، جدید اسلامی تہذیب و تمدن تشکیل کے لئے، علم وسائنس، دولت و ثروت، سیکورٹی اور سیاسی طاقت و توانائی بڑھانے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسی اعلی درجے، یعنی نئے اسلامی تمدن کے حصول کو اپنا ہدف اور مقصد قرار دے رکھا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے، مسئلہ فلسطین، یمن میں جنگ و خونریزی، اور مغربی ایشیا نیز شمالی افریقا کی صورتحال سمیت اسلامی دنیا کی موجودہ مشکلات و مسائل کو، باہم متصادم ہونے سے پرہیز اور مشترکہ دشمن کے مقابلے میں اتحاد کے اصول کی پابندی نہ کئے جانے کا نتیجہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ آج اسلامی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ، فلسطین ہے جہاں پوری قوم کو اس کے گھر اور وطن سے بے دخل کردیا گیا ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمنوں کی جانب سے اسرائیل کی نابودی سے متعلق امام خمینی رح اور دیگر ایرانی عہدیداروں کے معنی خیز بیانات کو تحریف کرنے کی کوششوں کا ذکر تے ہوئے فرمایا کہ ہم سرزمین فلسطین، اس کی آزادی اور نجات کے حامی ہیں اور اسرائیل کی نابودی کا مطلب یہودی عوام کی نابودی ہرگز نہیں ہے، کیونکہ ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے ملک میں بھی لاتعداد یہودی پوری سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ فلسطین کے عوام چاہے مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی، جو اس سرزمین کے اصل مالک ہیں، وہ اپنی حکومت کا انتخاب کریں اور اغیار نیز نیتن یاھو جیسے غنڈوں اور بد معاشوں کو باہر نکال کر اپنے ملک کو خود چلائیں اور یقینا ایسا ہوکے رہے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے روشن فکر دانشوروں اور علمائے کرام کی ذمہ داریوں کو سنگین قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پوری طاقت کے ساتھ حق کا دفاع کیجئے اور دشمن سے خوف نہ کھائیے، یہ بات یاد رکھیے کہ خداوند تعالی کے فضل و کرم سے عالم اسلام بہت جلد اپنے روشن اور تابناک مستقبل تک پہنچ جائے گا۔

ٹیگس