Nov ۲۲, ۲۰۱۹ ۱۴:۳۲ Asia/Tehran
  • ایٹمی سمجھوتے کی بقا، تمام فریقوں کے عمل پر منحصر: ایران

عالمی اداروں میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ تمام فریقوں کی جانب سے اس پر مکمل درآمد ہے

ویانا میں عالمی اداروں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کا واحد راستہ یہ ہے کہ سمجھوتے میں شامل تمام فریق اس پر مکمل عمل درآمد کریں اور یورپی فریقوں کو چاہئے کہ وہ ایران پر تنقید کرنے کے بجائے اس سمجھوتے پر عمل درآمد نہ کرنے کے امریکہ کے تخریبی کردار کو روکیں ۔

کاظم غریب آبادی نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس میں ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں تہران کے تازہ ترین موقف کی وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ یورپ کو چاہئے کہ وہ ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لائے جانے پر تنقید کے بجائے سفارتکاری کی اس اہم ترین کامیابی کے تحفظ کے لئے امریکہ کے تخریبی کردار اور ایٹمی سمجھوتے کو نابود کرنے کی اس کی کوششوں کو روکے۔

انھوں نے ایران کی ایٹمی سرگرمیاں شروع ہونے سے اس کے پھیلنے کے ریسک پر مبنی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے موضوعات اٹھانے سے قومی پروگرام کے مطابق ایران  کےحقوق کے نفاذ کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔

ویانا میں عالمی اداروں میں ایران کے سفیر اور مندوب نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی سیاسی قلابازیوں کا مقصد بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرنے کی ذمہ داری سے بھاگنا ہے اور بنیادی طور پر جیسا کہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے، ایران کے سیکورٹی و دفاعی ڈاکٹرائن اور پالیسیوں میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ کے دعوے ایسی حالت میں سامنے آئے ہیں کہ تہران نے ایٹمی سمجھوتے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کر کے اپنی نیک نیتی ثابت کردی ہے اور جیسا کہ دنیا نے بھی دیکھا کہ آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹوں میں بھی ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے کی پوری طرح پابندی کرنے کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے خلاف امریکی حکام کے جھوٹے دعوے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آئی اے ای اے میں امریکی مندوب جکی ولکاٹ نے جمعرات کو ایران کے خلاف الزام تراشیوں کے بعد دعوی کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بلاشرط مذاکرات کرنا چاہتا ہے ۔ ولکاٹ نے اپنے بیان میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران کی ایٹمی سرگرمیاں گہری تشویش کا باعث ہیں ۔امریکی مندوب کااظہار تشویش ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن، ایٹمی سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی جانب سے اس سمجھوتے کی مکمل پابندی کئے جانے کے باوجود آٹھ مئی دوہزار اٹھارہ کو یکطرفہ طور پر اس  سے باہر نکل گیا۔

ایران نے آٹھ مئی دوہزار انیس کو ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے نکلنے سے ہونے والے اقتصادی نتائج کی تلافی کے لئے یورپ کے مجوزہ طریقہ کار کا ناکارہ پن ثابت ہونے کے بعد اعلان کیا کہ وہ ایٹمی سمجھوتے کی بعض شقوں پر عمل درآمد ملتوی کر رہا ہے۔

ایران نے یورے نیم کی افزودگی تین اعشاریہ چھے سات فیصد بڑھا کر، افزودہ یورے نیم کے ذخیرے میں اضافہ کر کے ، تحقیقات و توسیع کے میدان میں معاہدے کی پابندی روک کر اور فردو ایٹمی تنصیبات میں یورے نیئم کی افزودگی اور پیداوار دوبارہ شروع کر کے چار مرحلوں میں ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی کر دی ہے۔

 تہران نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایٹمی سمجھوتے کے تمام فریق اس معاہدے کی پابندی کریں گے تو ایران ، ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی کا سلسلہ روک دے گا۔

 

ٹیگس

کمنٹس