Jul ۱۴, ۲۰۱۹ ۱۲:۲۹ Asia/Tehran
  • کیا ہے سید حسن نصر اللہ کی دلی خواہش؟ کیا جلد ہی پوری ہونے والی ہے؟

لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے المنار ٹی وی سے ایک مفصل گفتگو میں بیت المقدس اور مسجد الاقصی کے بارے میں اپنی دلی خواہشات کا اظہار کیا ۔

سید حسن نصر اللہ نے اس انٹرویو میں کہا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ ایک دن وہ بیت المقدس میں نماز پڑھیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمر تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور منطق و وقت کی بنیاد پر میں ان افراد میں ہوں جنہیں بہت زیادہ امید ہے کہ وہ اللہ کے لطف و کرم سے جلد ہی مسجد الاقصی میں نماز ادا کریں گے ۔

اس انٹرویو کے ایک حصے میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ، اسرائیل میں بہت زیادہ تباہی پھیلانے کی توانائی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک راز ہے جس کو میں اس کا وقت آنے تک فاش نہیں کروں گا اور میری اس بات کو اسرائیلی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیلی کوئی نئی جنگ کا آغاز کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ لبنان کے خلاف نئی جنگ کے آغاز کا نتیجہ جولائی 2006 کی جنگ سے کہیں زیادہ بھیانک ہوگا اور یہ جنگ، اسرائیل کو تباہی و خاتمے کی جانب لے جائے گا۔

انہوں نے صیہونی حکام سے کہا کہ وہ لبنان کو عہد حجری میں پہنچانے جیسی باتیں کرنا بند کر دیں کیونکہ حزب اللہ، اسرائیل پر دس ہزار میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اگر اس نے ایسا کیا تو اسرائیل کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا اور اس کا مطلب اسرائیل کے لئے عہد حجری ہوگا اور صیہونیوں کا وسیع قتل عام، اس ممکنہ قدم کا صرف ایک حصہ ہے ۔

سید حسن نصر اللہ کے اس انٹرویو میں جو بات سب سے اہم ہے وہ ان کی خود اعتمادی ہے۔ ہر تقریر اور خطاب میں ان کی خود اعتمادی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے لیکن اس بار ان کی خود اعتمادی کی سطح کچھ الگ ہی ہے ۔

 

جس طرح انہوں نے بیت المقدس میں جلد نماز ادا کرنے اور اسرائیل کی تباہی کے بارے میں باتیں کی ہیں اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ مزاحمتی محاذ نے صیہونی حکومت کے ممکنہ حملوں کا جواب دینے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے بلکہ اس پر عمل کے لئے اشارے کی دیر ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دسیوں سال سے حزب اللہ نے کسی بھی محاذ پر شکست نہیں کھائی اور اسرائیل، 70 کی دہائی کے بعد سے کسی بھی جنگ میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکا ہے ۔

ٹیگس

کمنٹس