Feb ۲۲, ۲۰۲۰ ۱۶:۰۰ Asia/Tehran
  • کیا، ایران اور سعودی عرب دوست بن رہے ہیں؟ سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ (دوسرا حصہ)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے کہا تھا کہ لبنان پر حزب اللہ کے قبضے کی وہ مخالفت نہیں کرے گا اگر یمن میں حالات بہتر ہو جائیں یعنی ایران اگر یمن میں انصار اللہ کو مذاکرات اور حکومت میں شراکت کو قبول کرنے پر آمادہ کر لے تو اسے لبنان میں حزب اللہ کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ سعودی عرب یہ نہیں چاہتا کہ آرامکو جیسا کوئی واقعہ پھر رونما ہو کیونکہ اس سے سعودی عرب کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں عراق کی البراثہ نیوز ایجنسی نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ کویت، عمان، قطر، عراق اور پاکستان جیسے متعدد ممالک نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی اور ریاض، تہران سے فاصلہ بناتا جا رہا ہے۔ اس کے لئے وہ طرح طرح کے بہانے پیش کر رہا ہے اور ہر بار یہی تکراری دعوی کر رہا ہے کہ ایران کو علاقے میں اپنی روش اور پالیسی میں تبدیلی کرنی ہوگی لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کے بارے میں سعودی عرب کے اتحادیوں تک کو بھی صحیح بات کا علم نہيں ہے۔

اصل کہانی یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کی نزدیکی سے امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو بہت زیادہ پریشانی ہوسکتی ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان نزدیکی کےراستے میں متحدہ عرب امارات بہت بڑی رکاوٹ ہے جو امریکا اور اسرائیل کے اشارے پر یہ کام کر رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی کے ولیعہد بن زائد، نتن یاہو اور جان بولٹن نے ایران سے نزدیک نہ ہونے کی شرط پر، محمد بن سلمان کو، سعودی عرب میں اقتدار تک پہنچایا۔ اس لئے بن سلمان، بن زائد کے احکامات پر عمل کرنے پر مجبور ہیں۔

بشکریہ

شرق الاوسط

* مقالہ نگار کے موقف سے سحر عالمی نیٹ ورک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

 

ٹیگس

کمنٹس