ترجمہ و تلخیص: م۔ ہاشم

سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے 17 ممالک کے سربراہان مملکت کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے ریاض آنے کی دعوت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مئي کے اواخر میں ریاض کا دورہ کریں گے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے مطابق شاہ سلمان کی طرف سے ریاض آنے کے لئے مدعو کئے گئے سربراہان مملکت میں متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت کے حکمراں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے 17 سربراہان مملکت کو ریاض آنے کی دعوت کے شاہ سلمان کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں؟

شاہ سلمان کے اس اقدام کا سب سے پہلا مقصد خطے کی سیاست میں سعودی عرب کی علامتی طاقت کو ظاہر کرنے کی ان کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاہ سلمان ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگي میں 17 عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کے سربراہوں کو ریاض بلا کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ایک اہم ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پورے کر سکتا ہے البتہ ایسا نہیں لگتا کہ ریاض مدعو کئے گئے تمام 17 ممالک کے سربراہان شاہ سلمان کی دعوت کو قبول کریں گے۔

شاہ سلمان کے مذکورہ اقدام کا دوسرا ہدف و مقصد یہ ہے کہ وہ ایرانو فوبیا کی نئي لہر شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ایران کے خلاف امریکی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ سابق امریکی حکومت کے بھی اسٹریٹیجک تعلقات تھے اور ایران کے خلاف شدید ترین پابندیاں بھی اوباما حکومت کی طرف سے لگائي گئي تھیں لیکن سعودی عرب کی نظر میں گروپ پانچ جمع ایک اور ایران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی معاہدہ ایران کے خلاف بین الاقوامی دباؤ میں کمی کا باعث بنا ہے۔

اسی بنا پر، سعودی عرب اس معاہدے کے سخت مخالفین میں سے ایک رہا ہے۔ شاہ سلمان اب ایک بار پھر ایران کی طرف سے دہشت گردی کی حمایت جیسے بے بنیاد الزامات لگا کر ایران کے خلاف مزید دباؤ کے لئے ڈونالڈ ٹرمپ کو ترغیب دلانے کے خواہاں ہیں۔

امریکی صدر سے ملاقات کے لئے 17 ممالک کے سربراہوں کو ریاض کے دورے کی دعوت دینے کے شاہ سلمان کے اقدام کا تیسرا مقصد دہشت گرد گروہوں کے احیا اور ان کی تقویت کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عراقی پارلیمنٹ میں الاحرار دھڑے کی نمائندہ زینب السہلانی کا بیان قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگي میں اس طرح کی نشست کو سازشی اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نشست کا مقصد عراق اور شام میں ذلت آمیز شکست کے بعد داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا احیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے علاقے میں دہشت گرد گروہوں سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ مفادات ہیں۔ شاہ سلمان ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران 17 عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کے سربراہوں کو ریاض آنے کی دعوت دے کر ایک نئے اتحاد کی تشکیل کے ساتھ ساتھ خاص طور سے عراق اور شام میں دہشت گرد گروہوں کو حتمی زوال سے نجات دلانے کے خواہاں ہیں۔

 

May ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۸:۲۲ UTC
کمنٹس