Jun ۲۵, ۲۰۱۹ ۰۵:۵۵ Asia/Tehran
  • بے جا خواہشات سے پرہیز

بسم الله الرحـــمن الرحــــیم

قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۚ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا اَناَ مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿انعام 56﴾

ترجمہ:   (اے پیغمبر!) کہہ دیں کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے کہ تم خدا کے علاوہ جن کو پکارتے ہو، (یہ بھی) کہہ دیں کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا کیونکہ ایسی صورت میں میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتہ افراد سے نہیں ہوں گا۔

تفســــــــیر قــــرآن:

1⃣ بے جا خواہشات کا دو ٹوک الفاظ میں نفی میں جواب دینا چاہئے (نھیت، لااتبع، ضللت)

2⃣ پیغمبر اسلام کے موقف کا مرکز اور منبع وحی الٰہی ہے (قل۔ قل)

3⃣ شرک سے اظہار برأت، اسلام کا جزو ہے (نھیت ان اعبد)

4⃣ شرک کا اصل مرکز، ہوس پرستی ہے (لااتبع اھوائکم)

5⃣ مبلغ کو نہیں چاہئے کہ وہ لوگوں کی خواہشات کو پورا کرتا پھرے (لااتبع اھوائکم)

6⃣ ہوس پرستی، ہدایت کے رستے گم کر دیتی ہے (لااتبع اھوائکم…وما انا من المھتدین)

  تفسیر نور، محسن قرائتی.

ٹیگس

کمنٹس