Aug ۱۱, ۲۰۱۹ ۱۰:۱۰ Asia/Tehran
  • روز عرفہ کی اہمیت و فضیلت

روزہ عرفہ کی عظمت، اہمیت اور حساسیت کے پیش نظر معصومین علیہم السلام سے کچھ مخصوص اعمال، دعا اور مناجات وارد ہوئے ہیں۔

 

اہمیت اور فضیلت

روز عرفہ مناسک حج کا آغاز ہے اس دن حاجی میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور دعا اور استغفار کے ساتھ حج جیسے فریضے کی ادائیگی کی توفیق نصیب ہونے پر خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔ روز عرفہ کی اہمیت و عظمت صرف حاجیوں کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں، بلکہ اس سے بڑھ کر تمام انسانوں کے لئے اس دن کی خاص اہمیت ہے۔اسکی عظمت، اہمیت اور حساسیت کے پیش نظر معصومین علیہم السلام سے کچھ مخصوص اعمال، دعا اور مناجات وارد ہوئے ہیں۔ان میں سے مشہور ترین دعا، امام حسینؑ کی تعلیم کردہ دعائے عرفہ ہے.اس دعا کو امام حسینؑ نے میدان عرفات میں پڑھا ہے اور آج  بھی شیعیان عالم میں یہ دستور ہے کہ وہ اگرچہ میدان عرفات میں حاضر نہ ہوں مگر اپنے مولا و آقا کی اقتداء کرتے ہوئے روز عرفہ اس دعا کو پڑھتے ہیں۔

بہت سی احادیث میں اس دن کو گناہوں کے بخشے جانے کا خصوصی دن قرار دیا گیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

مَن لَمْ یُغْفَرْ لَهُ فِی شَهْرِ رَمَضانَ لَمْ یُغْفَرْ لَهُ اِلی قابِلٍ اِلاَّ اَنْ یَشْهَدَ عَرَفَةَ؛ جو شخص ماہ رمضان میں نہ بخشا گیا تو پھر اسکی بخشش کا صرف ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ وہ شخص (روز عرفہ) میدان عرفات میں حاضر ہو۔

ایک حدیث شریف میں رسول رحمت کا ارشاد گرامی ہے:

ما مِن یَومٍ أکثَرَ أن یُعتِقَ اللَّهُ فِیهِ عَبدَاً مِنَ النّارِ مِن یَومِ عَرَفَهَ؛جس تعداد میں خداوند عالم عرفہ کے روز بندوں کو آتش جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے، اتنا کسی اور دن نہیں فرماتا۔ صحیح مسلم ، ج 4 ، ص 107 .

امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

مِنَ الذُّنوبِ ذُنوبٌ لاتُغفَرُ إلّا بِعَرَفَاتٍ؛بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو صرف روز عرفہ بخشے جاتے ہیں۔ دعائم الاسلام ، ج 1 ، ص 294 

روایات کی روشنی میں یہ وہ دن ہے جب دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

أعظَمُ أهلِ عَرَفاتٍ جُرماً مِنِ انصَرَفَ و هُوَ یَظُنُّ أنَّهُ لَن یُغفَرَ لَهُ؛ میدان عرفات میں سب سے سنگین جرم کا مرتکب وہ شخص ہوتا ہے تو عرفات سے ہو کر اس گمان کے ساتھ واپس آئے کہ خدا نے اسے نہیں بخشا ہے۔ بحار الأنوار ، ج 99 ، ص 248 .

ائمہ معصومین علیہم السلام اس دن کے لئے خاص احترام و عظمت کے قائل تھے اور لوگوں کو اس کی اہمیت و عظمت اور اعمال کی طرف انہیں متوجہ فرماتے تھے اور روز عرفہ اگر کبھی کوئی سائل آجاتا تو اسے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے تھے۔

روز عرفہ کے مستحبات

روز عرفہ کے بہت زیادہ مستحب اعمال احادیث میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض یوں ہیں:

احادیث کے مطابق دعا اور استغفار روز عرفہ کے بافضیلت ترین اعمال میں سے ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: تَخَیَّرْ لِنَفْسِکَ مِنَ الدُّعاءِ ما اَحْبَبْتَ وَاجْتَهِدْ فَاِنَّهُ (یَوْمَ عَرَفَةَ) یَوْمُ دُعاءٍ وَمَسْأَلَةٍ؛اس روز تم جو دعا کرنا چاہو وہ کرو کیوں روز عرفہ، اللہ سے دعا اور طلب کرنے کا دن ہے۔

اس کے علاوہ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی تعلیم کردہ دعا دعائے عرفہ کو پڑھنے پر خاص تاکید کی گئی ہے۔

غسل کرنا۔ 

زیارت امام حسین علیہ السلام

صدقہ دینا

روزہ رکھنا

عرفہ کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات بھی غور طلب ہیں۔آپ اس با عظمت روز کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
عرفہ كا دن دعا ،ذكر ،گريہ وزاري اور خدا سے راز ونياز كا دن ہے۔ ہم سب بالخصوص جوان ان ايام اور ان لمحات كي قدر و منزلت پہچانيں۔ يہي خدا سے رابطہ انسانوں كو شرح صدر عطا كرتا ہے،انسان كے لئے سعادت كا راستہ ہموار کرتا ہے، انسان كو عزم و حوصلہ اور خلوص عطا كرتا ہے،كاموں ميں بركت ديتا ہے،توفيقات الٰہي انسان كے وجود پر سايہ فگن ہوتي ہيں اور نتيجۃً انسان حقيقي اسلامي اقدار كي راہ پر چل پڑتا ہے (قم كي عوام كے درميان خطاب 9 جنوري 2006)

اس دن كو عرفہ يا جہاں يہ دعا پڑهائي گئي اسے عرفات اس لئے كہتے ہيں كيونكہ وہ جگہ اور يہ دن انسان كے گناہوں سے اعتراف اور خدا سے لولگانے كے لئے بہترين موقع و محل ہے۔"انسان بندوں كے سامنے اپنے گناہوں كے اعتراف كو جائز نہيں سمجهتا۔ اگر كسي نے كوئي گناہ كيا تو اسے حق نہيں ہے كہ وہ اسے دوسروں كے سامنے بيان كرے۔ ليكن خدا كے حضور ايسا كرنا ضروري ہے۔جب خدا كے حضور جائيں تو اپني غلطيوں ،اپني كوتاہيوں،اپنے گناہوں كا اعتراف كريں جو ہماري رسوائي كا سبب اور خدا اور عرفان كي طرف ہماري پرواز ميں ركاوٹ بنتے ہيں، ان گناہوں كا اعتراف كريں اور ان كے لئے توبہ كريں۔ جو افراد اپنے آپ كو ہر طرح كي خطا اور گناہ سے منزہ مبرا سمجهتے ہيں ان كي كبهي بهي اصلاح نہيں ہو سكتي۔ اگر انسان چاہتا ہے كہ وہ بڑي طاقتوں سے نہ ڈرے تو اسے خدا سے ڈرنا چاہئيے۔ جو دل خدا كے خوف اور اس كي محبت سے لبريز ہوجائے وہ پهر كسي بهي طاقت سے خوف نہيں كهاتا۔يہ ہے دعا كا فائدہ

(ايراني عوام سے ايك خطاب،18مئي 1994)

 

 

ٹیگس

کمنٹس