• شام کے بحران کے سیاسی حل پر تاکید

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں شام کے بحران کے حل کے لئے جنیوا سیاسی مذاکرات کو دوبارہ شروع کئے جانے پر زور دیتے ہوئے ایران، روس اور ترکی سے کہا ہے کہ وہ شام میں جنگ اور مخاصمت کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ فائربندی کو نافذ کریں تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد چوبیس سو ایک کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں انسانی امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے-

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام کے شمال مغربی علاقوں میں ترکی کی فوجی کارروائیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، کہا کہ یورپی یونین نے آستانہ مذاکرات کی ضمانت دینے والوں سے کہا ہے کہ وہ شام کے سبھی علاقوں میں کسی رکاوٹ کے بغیر انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کا راستہ فراہم کریں اور محاصروں کو ختم کر دینے کے اپنے وعدوں پر عمل کریں-

یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی کہا ہے شام کا بحران صرف سیاسی مذاکرات سے ہی حل ہو گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بحران فوجی طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا-

بیلجیئم کے وزیراعظم شارل میشل نے بھی اپنے ٹوئیٹر پیج پر لکھا ہے کہ شام میں لڑائیوں کو کم کرنے کے لئے سیاسی مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں-

بیلجیئم کے وزیراعظم نے کہا کہ شام میں لڑائیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ متحارب فریق سیاسی مذاکرات کی میز پر بیٹھیں-

بیلجیئم کی حکومت نے شام میں جاری لڑائیوں کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہ کر پانے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بارہا تنقید کی ہے-

گذشتہ ہفتے امریکا اور یورپی ملکوں نے شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنا کر یہ دعوی کیا تھا کہ شام کے صدر بشار اسد ہی دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ دار ہیں-

اسی بے بنیاد دعوے کے تحت امریکا، فرانس اور برطانیہ نے سنیچر کی صبح شام پر حملہ کر دیا-

اس میں شک نہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ہی جنھوں نے کسی ٹھوس ثبوت و شواہد کے بغیر اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے سے قبل ہی شام پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے علاقائی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے اور ہر طرح کے نتائج کا جواب انہی ملکوں کو دینا ہو گا-

شام پر الزام لگانے اور اس پر حملہ کرنے کے وقت کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حملہ غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کی شکست کے بعد کیا گیا ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جارحانہ اقدام کا مقصد دہشت گردوں کی شکست کا بدلہ لینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا-

Apr ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۴:۳۲ Asia/Tehran
کمنٹس