Apr ۱۵, ۲۰۲۴ ۰۹:۵۶ Asia/Tehran
  • ایران کے حملے کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے پیچیدہ جوابی حملے اور پیشرفتہ ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔

سحرنیوز/ دنیا: نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ دمشق میں ایرانی سفارتی مرکز پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں، ایران نے سنیچر کی رات نصف شب کے بعد، اسرائيل پر سیکڑوں ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے حملہ کیا۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے جوابی حملے میں جو ہتھیار استعمال ہوئے وہ ان سے بہت زیادہ پیچیدہ تھے جو غزہ کی جںگ میں چھے مہینے کے دوران حماس اور اس کے اتحادیوں نے اس کے خلاف استعمال کئے ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق اب تک اسرائيلی حکومت نے حماس اور جہاد اسلامی کے تیار کردہ میزائلوں اور راکٹوں کا ہی سامنا کیا تھا، جن کی مار 12 سے 25 میل ہے اور شام کے میزائلوں کو دیکھا تھا جن کی مار 100 میل ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سنیچر کی رات ایران نے جوابی حملے میں جو ہتھیار استعمال کئے ان کی مار اور رفتار بہت زیادہ تھی۔
نیویارک ٹائمز نے صیہونی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس حملے ميں ایک سو پچاسی ڈرون طیارے اور پینتیس کروز نیز ایک سو دس زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ایران سے اور کچھ میزائل عراق اور یمن سے اسرائیل پر داغے گئے۔
نیویارک ٹائمز نے خود اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے تین سو زیادہ ڈرون طیارے اور دو سو سے زائد میزائل اسرائیل کے خلاف حملے میں استعمال کئے ہيں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران نے گزشتہ چند عشروں میں اپنی دفاعی طاقت بڑھانے میں، دور مار میزائلوں ، ڈرون طیاروں اور ایئر ڈیفنس سسٹم پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے اور اس وقت اس کے پاس مشرق وسطی میں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور وہ عالمی سطح پر اسلحہ برآمد کرنے والے اہم ملک میں تبدیل ہو رہا ہے۔

ٹیگس