• امریکی سینیٹ اور حکومت میں ٹکراؤ

امریکا میں حکومت اور سینیٹ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سینیٹ نے ملک کے ذرائع ابلاغ عامہ کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کی مخالفت میں ایک قرار داد پاس کرنے کے ساتھ ہی امریکا کی بیرونی امداد میں کمی کے صدر ٹرمپ کے پروگرام کی مخالفت کا بھی اعلان کیا ہے۔

امریکا کے ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن سینیٹروں نے ایک قرار داد پاس کرکے امریکی  ذرائع ابلاغ عامہ کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے موقف  کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینیٹروں نے  ملک کے اخبارات و جرائد کے خلاف صدر ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کی ہے جن میں وہ ملک کے ذرائع ابلاغ عامہ کو دشمن کہتے رہتے ہیں۔ امریکی سینیٹ نے یہ قرار داد اس وقت پاس کی جب جمعرات کو امریکا کے تین سو سے زائد اخبارات نے ایک مشترکہ اقدام کے تحت ذرائع ابلاغ عامہ کی آزادی پر زور دیا اور بعض ذرائع ابلاغ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے دشمن کہے جانے کی مذمت کی۔

 قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ان نامہ نگاروں اور ذرائع ابلاغ عامہ کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور انہیں دشمن قرار دیا ہے جو ان کی پالیسیوں کو قبول نہیں کرتے اور ان پر تنقید کرتے ہیں۔ ٹرمپ ان ذرائع ابلاغ پر جھوٹی اور جعلی خبریں نشر کرنے  کا الزام لگاتے ہیں۔ 

امریکا کی ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن  دونوں پارٹیوں کے سینیٹروں نے اسی کے ساتھ ایک منصوبہ پیش کرکے بیرونی امداد میں کمی کے ٹرمپ کے پروگرام کی مخالفت بھی کی ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئر مین اور  ریپبلیکن سینیٹر باب کورکر اور سینیئر ڈیموکریٹ سینیٹرباب منذر نے اعلان کیا ہے کہ بیرونی امداد میں کمی کے ٹرمپ کے  منصوبے کی مخالفت کریں گے۔

 قابل ذکر ہے کہ  ٹرمپ حکومت دو ہزار اٹھارہ کے بجٹ میں امریکا کی بیرونی امداد  کم کرنا چاہتی تھی لیکن اراکین پارلیمنٹ نےاس کی مخالفت کی  جس کےبعد ٹرمپ نےبیرونی امداد میں کمی کئے بغیر بجٹ بل پردستخط کردیئے۔ 

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے بجٹ اور پلاننگ کے دفتر نے وزارت خارجہ اور بین الاقوامی امدادی  تنظیم یو ایس ایڈ سے کہا ہے کہ مالی ذخائر کو وزارت خزانہ میں لوٹانے کی غرض سے، بیرونی امداد ختم کرنے کے لئے حکومت کے انسدادی پیکیج کے بارے میں ضروری اطلاعات فراہم کریں۔ اس انسدادی پیکیج کے ذریعے کانگرس کی منظور کردہ  ان مالی امدادوں کو ختم کرنے کا پروگرام ہے جن کا بجٹ ابھی فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

 امریکی سینیٹروں نے یہ مخالفت ایسی حالت میں کی ہے کہ ٹرمپ نے حکومتی بجٹ کو منظوری نہ ملنے کی صورت میں حکومتی شٹ ڈاؤن کی دھمکی دی ہے۔  

ٹیگس

Aug ۱۷, ۲۰۱۸ ۲۲:۰۱ Asia/Tehran
کمنٹس