Apr ۲۱, ۲۰۱۹ ۲۳:۲۳ Asia/Tehran
  • سری لنکا، دہشت گردانہ حملے میں ملوث کون ؟؟؟

سری لنکا میں سلسلے وار بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 207 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ 450 سے زائد زخمی ہیں جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سری لنکا میں عیسائیوں کے تہورا ایسٹر کے موقع پر ہوئے سلسلے وار بم دھماکوں نے اس پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی اور سری لنکا کے عوام کی خوشی غم میں تبدیل ہوگئی ۔

خبروں کے مطابق سری لنکا کے دار الحکومت کولمبو سمیت تقریبا 8 الگ الگ علاقوں میں سیریل بم دھماکے ہوئے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ سب سے پہلے 3 چرچ اور 3 ہوٹل کے اندر دھماکے ہوئے ۔

در ایں اثنا اس خطرناک دہشت گردانہ حملے کی ایران سمیت پوری دنیا نے سخت الفاظ میں مذمت کی وہیں اس حملے میں کون ملوث ہو سکتا ہے اس کو لے کر میڈیا میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

جہاں کچھ میڈیا حلقے سری لنکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں کسی مسلمان تنظیم کے ملوث ہونے پر شک کا اظہار کر رہے ہیں وہیں دنیا کے زیادہ تر میڈیا اور معتبر افراد کا خیال ہے کہ سری لنکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں انتہا پسند بدھسٹوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور ان کے ساتھ کچھ انتہا پسند ہندؤں بھی شامل ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے بھی متعدد بار انتہا پسند بودھسٹ سری لنکا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروں کاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں ۔

دوسری جانب گلف نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سری لنکا کے پولیس سربراہ نے 10 دن پہلے کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کی خفیہ رپورٹ پیش کی تھی ۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور ملک کے مشہور چرچوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ گلف نیوز نے اے ایف پی کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔

پولیس سربراہ پوجوتھ جئے سوندر نے 11 اپریل کو ملک کے سینئر پولیس سربراہوں کو اطلاع دی تھی جس میں حملے کے حوالے سے آگاہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

ٹیگس

کمنٹس