ایران کے خلاف فوجی اقدام کے سلسلے میں تل ابیب خوفزدہ
Aug ۲۶, ۲۰۱۵ ۱۳:۵۵ Asia/Tehran
-
صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ ایہود باراک
امریکہ کے ایک سینیئرتجزیہ نگار نے کہا ہے کہ ایھود باراک کے بیانات سے واضح ہو گیا کہ تل ابیب، ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے سلسلے میں خوفزدہ اور ہراساں تھا
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ایک اہم اور سینیئر تجزیہ نگار جارج فریڈمین نے ایک مقالے میں صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ ایہود باراک کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایہود باراک کے بیانات نے ثابت کر دیا کہ تل ابیب، ایران پر حملے کے انجام سے خوف زدہ تھا اور اس کے پاس تہران کے خلاف کوئی مناسب فوجی آپشن نہیں تھا-ایہود باراک نے ابھی حال ہی میں ایک بیان میں، کہ جس کے بارے میں یہ طے تھا کہ یہ میڈیا میں نہیں آئے گا لیکن فریڈمین کے بقول شاید جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے، دعوی کیا ہے کہ تل ابیب نے دو ہزار دس کے بعد ایران کی ایٹمی تنصیبات کے خلاف تین بار فوجی کارروائیاں انجام دینے کی کوشش کی لیکن تینوں بار فوجی سربراہوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی اور اس پر عمل درآمد روکنا پڑا-
ایہود باراک نے تصدیق کی کہ اسرائیل کے حملہ نہ کرنے کی اصلی وجہ یہی مخالفین تھے اور فوجی حکام کو کامیابی کا یقین نہیں تھا- سینیئر امریکی تجزیہ نگار جارج فریڈمین نے ایران میں کارروائی کے خطرات اور پیچیدگیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تہران کے خلاف فوجی اقدام میں کسی اسرائیلی کی ہلاکت یا اس کے اغوا سے اسرائیل کمزور ہو گا جبکہ ایران مضبوط بن کر ابھرے گا-