عالم اسلام پر سعودی عرب کے مظالم ؛ یمن میں جرائم اور منی میں سانحہ
Oct ۰۵, ۲۰۱۵ ۱۵:۲۷ Asia/Tehran
-
سعودی عرب کے وزیر دفاع
سعودی عرب کے وزیر دفاع اور ولیعہد کے جانشین نے کہا ہے کہ علاقے میں بدامنی کے باوجود سعودی عرب میں امن و امان ہے-
محمد بن سلمان بن عبدالعزیزآل سعود نے اتوار کو ایک پیغام میں سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے ایک پیغام میں دعوی کیا کہ انھوں نے خود کو اسلام اور مسلمانوں کی مدد اور بیت اللہ کے حاجیوں اور زائرین کے لئے وقف کردیا ہے-محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب کا قومی دن ایسی حالت میں منایا جا رہا ہے کہ اس ملک کی مسلح افواج اپنے اتحادیوں کے ساتھ بقول ان کے یمن میں امید بحال کرنے کے لئے برسر پیکار ہیں- سعودی عرب کے وزیر دفاع اور ولیعھد کے جانشین نے دعوی کیا ہے کہ ریاض اپنے بھائیوں کے تعاون سے علاقے اور عالم عرب کی امن و سلامتی کی حفاظت کے لئے تعاون کر رہا ہے- سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے اس ملک کے وزیر دفاع کا پیغام وہم و گمان اور خود پسندی سے پر نیز زمینی حقائق سے دور ہے-
محمد بن سلمان ایسے عالم میں اسلام اور حاجیوں کی خدمت کی بات کر رہے ہیں کہ اس سال کے مناسک حج، آل سعود کی بد انتظامی اور نااہلی کا ثبوت پیش کر رہے تھے- سعودی حکام نے اس سال حاجیوں کو خدمات فراہم کرنے کے بجائے، رنج و غم مسائل و مشکلات اور سوگ و ماتم کو ان کا مقدر بنا دیا اور وہ عید الضحی کے دن آل سعود کی بد انتظامی کی بھینٹ چڑھ گئے- ایران اور دوسرے ممالک کے حاجی، سعودی عرب کے مہمان تھے عیدالضحی کے دن منی میں حج کے ایک عمل رمی جمرات یعنی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے موقع پر سعودی حکام کی بد انتظامی کا شکار ہو گئے اور سعودی عرب کے ظالم و سفاک اہلکاروں کی آنکھوں کے سامنے اپنی جانیں قربان کر دیں- منی سانحہ ، خانہ کعبہ کے حاجیوں کے سلسلے میں سعودیوں کے غیرذمہ دارانہ رویے کا عروج تھا اور یہ سانحہ عالم اسلام بالخصوص ملت ایران کے لئے بہت بڑا غم اور صدمہ بن گیا-
ایسے عالم میں کہ جب قرآن کریم ، خانہ کعبہ کو مقام امن اور حج کو امن و سلامتی قرار دیتا ہے ، منی سانحہ پوری طرح اس کے برخلاف ثابت ہوا- منی سانحے کے شہداء کے جنازوں کے ساتھ سعودی کارندوں کے غیر اسلامی اور غیر انسانی رویے نے سعودیوں کی نااہلی کی انتہا کر دی- شہداء کے جنازوں کو جس طرح کنٹینروں میں رکھا گیا اس سے سعودی حکام کی حقیقی ماہیت واضح ہو گئی ہے- منی سانحے کے سلسلے میں سعودی عرب کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور نااہلی کا سلسلہ منی سانحے پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ یمن پر سعودی اتحاد کے حملے بھی رائے عامہ کی نگاہوں کے سامنے آل سعود حکومت کے انسانیت دشمن جرائم کا واضح ثبوت ہیں- سعودی عرب کے وزیر دفاع نے ایسے عالم میں یمن میں امید بحال کرنے کا دعوی کیا ہے کہ ان کی فوج گذشتہ سات مہینوں سے یمن کے مظلوم عوام پر رات و دن، زمین ، فضا اور سمندر سے حملے کر رہی ہے- یمن کے سلسلے میں سعودی عرب کے جنگ پسندانہ رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ سعودی عرب، ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے یمنی عوام کا سہارا نہیں ہے بلکہ یمنی بچوں اور عورتوں کی نسل کشی کر رہا ہے-
سعودی عرب، یمن کے عوام کے لئے امید کے بجائے روزانہ بچوں اور عورتوں کا قتل عام کر رہا ہے - اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچ سو سے زیادہ یمنی بچوں کا قتل عام اس غریب عرب ملک کو سعودی عرب کا تحفہ ہے- یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کی ہر بار کی بمباری کے بعد یمنی بچوں کی اشک بار آنکھیں یہ اہم پیغام دیتی ہیں کہ سعودی عرب عالم اسلام کا خادم نہیں بلکہ مسلم امۃ کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے - سانحہ منی اور یمن میں آگ و خون نیز تباہی و بربادی سعودی حکام کا ورثہ ہے-