جواد ظریف کا نیویارکر جریدے کو انٹرویو، ایران کے نقطہ نظر کی وضاحت
-
جواد ظریف، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی جریدے نیویارکر کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انھوں نے بحران شام کے حل کے لیے سفارتی میدان میں ایران کے اقدامات اور نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے۔
محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کی رہائش گاہ پر دیے جانے والے اس انٹرویو میں کہا کہ شامی عوام کے درمیان اتحاد اور قومی آشتی کے عمل کو تیز کرنا چاہیے اور شامی عوام کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ کون لوگ ان پر حکومت کریں گے اور ان کا نظام حکومت کیسا ہونا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے شام کے بارے میں ایران کے چار نکاتی منصوبے اور یہ کہ یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا ہے، کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ موجود ہے اور یہ چار نکات پر مشتمل ہے۔
اس میں قومی حکومت کا قیام، جنگ بندی، دہشت گردی کا مقابلہ اور آئین کے نئے اداروں کی بنیاد پر کہ جو قائم ہو چکے ہیں، سیاسی اصلاحات اور پائیدار حکومت کا ڈھانچہ قائم کرنا شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ان نکات کو ہر اس منصوبے کی بنیاد ہونا چاہیے کہ جو شام کے لیے کارساز اور فائدہ مند ہو سکتا ہو۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ البتہ ہر منصوبے کو ایک اصول کا حامل ہونا چاہیے اور سب کو شام کے حق حاکمیت کے احترام، ارضی سالمیت، دہشت گردی کے خلاف جنگ، شام کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے احترام کو بھی قبول کرنا چاہیے۔
محمد جواد ظریف نے شام کے بارے میں ایران کے منصوبے کی ماہیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شروع سے ہی ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ شام کے عوام کو ہی اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ ہم اس بات کے خلاف ہیں کہ دوسرے ممالک کے لوگ اور حکومتیں شام میں سیاسی راہ حل کے لیے پیشگی شرطیں رکھیں۔ ہم نے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ ہمارا فریضہ نہیں ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ شام کے عوام کو اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ بحران شام کے حل کے بارے میں ایران کا نقطہ نظر پیچیدہ نہیں ہے؛ اس لیے یورپ والے اور اقوام متحدہ بھی اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔
لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ شام کے مسئلے کے پیچیدہ ہونے میں دو عوامل کا اہم کردار ہے؛ ایک، شام میں امن و امان کا نہ ہونا ہے اور اس بدامنی کی وجہ شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی بیرونی مالی اور فوجی حمایت ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا اہم عامل و سبب یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے اتحاد نے شام میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا ہے اس لیے کہ وہ دہشت گردی کا سنجیدہ مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔
امریکہ نے جو واحد کام کیا ہے اور جس پر اصرار بھی کر رہا ہے، وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی تقسیم بندی ہے کہ جنھیں اس نے اچھے اور برے میں تقسیم کر دیا ہے اور یہ خود شام میں دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کرنے کی راہ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران داعش کے خلاف ہر اقدام کی بشرطیکہ وہ سنجیدہ ہو، حمایت کرے گا؛ لیکن نام نھاد اتحاد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا ہے۔ کیونکہ اس کا خیال ہے کہ بشار اسد کے لیے کوئی راہ حل تلاش کرنے سے قبل داعش کو نشانہ بنانے کا فائدہ بشار اسد کو پہنچے گا۔ اس بنا پر صرف دکھاوا کیا جا رہا ہے اور اسی لیے داعش کی طاقت و توانائی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انھیں توقع تھی کہ وہ چند ہفتوں میں بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے لیکن چند ہفتوں کے بجائے چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور بشار اسد بدستور شام کے صدر ہیں؛ اس دوران لاکھوں افراد جان کی بازی ہار گئے اور دسیوں لاکھ، گھر سے بے گھر ہو گئے۔ اس وقت شام میں بشار اسد کو ہٹانے کے لیے مغرب کے اقدامات کے ساتھ ساتھ داعش کے خلاف روس کی کارروائی نے بحران شام کے حل کے سلسلے میں ایک نیا توازن پیدا کر دیا ہے۔
امریکہ اور مغربی میڈیا کی جانب سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے ہوائی حملوں کے خلاف پروپیگنڈے اور تنقید کا تعلق بھی اسی مسئلے سے ہے۔ لیکن شام کے موجودہ حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں سرگرم جبھۃ النصرہ، احرار الشام اور ان جیسے دیگر تمام دہشت گرد گروہوں اور داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی عزم و ارادے اور کوشش کی ضرورت ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا نیویارکر کو دیا گیا انٹرویو بھی اسی حقیقت پر تاکید کرتا ہے۔