ایرانی پارلیمنٹ میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کی منظوری
Oct ۱۱, ۲۰۱۵ ۱۷:۵۳ Asia/Tehran
-
ایرانی پارلیمنٹ میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کی منظوری
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی نے اتوار کے روز "مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے جوابی اور مناسب اقدام کے بارے میں سنگل ارجنسی بل کی جنرل آؤٹ لائنز کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے حق میں ایک سو انتالیس اور مخالفت میں ایک سو ووٹ ڈالے گئے جبکہ بارہ ارکان پارلیمنٹ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اس بل کی تفصیلات کا رواں ہفتے میں منگل کے روز پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔ اس بل کی حتمی منظوری کی صورت میں ایرانی حکومت اعلی قومی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر رضاکارانہ طور پر عمل کر سکتی ہے۔مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تناظر میں ایٹمی سمجھوتہ بہت سے تجزیہ نگاروں کے خیال میں مختلف سیاسی، اقتصادی اور سائنسی ترقی کے میدانوں میں ایران کے ساتھ تعاون کے لیے نیا باب کھولے گا۔ کیونکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی تائید میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نئی قرارداد پر عمل درآمد سے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق سلامتی کونسل کی گزشتہ تمام قراردادیں منسوخ ہو جائیں گی۔
اس طرح مشترکہ جامع ایکشن پلان عمل درآمد عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ اس بنا پر آج کی بحثوں میں ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان چاہے وہ حامی ہوں یا مخالف، اس بات پر اتفاق رائے رکھتے تھے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے اہم نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ پابندیوں کے ختم ہونے سے ایران سے تمام خطرات بھی دور ہو جائیں گے؛ اس بنا پر ہر قسم کے امکانات کے لیے ضروری تدابیر بھی پیش نظر رکھی جانی چاہییں۔
ایرانی پارلیمنٹ میں آج پاس ہونے والا بل حکومت کو اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد میں مقابل مذاکراتی فریقوں کی جانب سے خلاف ورزی اور دباؤ کے مقابل جوابی اقدامات انجام دے۔
ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ایران دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کی وجہ سے جھکنے پر مجبور ہوا ہے۔ اگرچہ مشترکہ جامع ایکشن پلان نے امریکہ کا یہ مقصد ناکام بنا دیا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ بدستور ملت ایران پر اپنے مطالبات تھوپنے اور اپنا اثرورسوخ پیدا کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔
اسی بنا پر پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے نتائج کے سلسلے میں تدبر اور ہوشیاری کا مظاہرہ کیا جائے کہ بعض ناقدین کے مطابق یہ ایٹمی نتائج کو محدود کرنے کے علاوہ حتی ایران کی دفاعی طاقت اور اسٹریٹیجک اقتصادی پروگراموں پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ان مفروضوں کا البتہ ماہرین کی سطح پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے حکومت سے تقاضا کیا گیا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سفارتی اقدامات کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد سے پیدا ہونے والے ممنکہ آثار و نتائج اور اہداف کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے۔
یہ بات مسلم ہے کہ اس بارے میں ایران کی ریڈ لائنز مکمل طور پر واضح ہیں۔ اس بنیاد پر حکومت اور پارلیمنٹ کی مشترکہ اسٹریٹجی اور حکمت عملی ایران میں امن و سلامتی کے تحفظ، اقتصادی ترقی کے عمل کے جاری رہنے اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اقتصادی تعاون کے میدان میں ایران کی پوزیشن کو بہتر بنانے کی بنیاد پر استوار ہے۔
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے پارلیمنٹ کے آج کے اجلاس میں ایک بار پھر یقین دلایا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان قومی حاکمیت اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے ذمہ داری کا تعین کر دیا تھا اور ہمیں اس طرح مذاکرات کرنا تھے کہ ہماری عزت اور خودمختاری کا بھی تحفظ ہوتا اور ایٹمی ٹیکنالوجی بھی اپنی جگہ باقی رہتی کہ ایسا ہی ہوا۔
علی اکبر صالحی نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نے جو پابندی اور محدودیت قبول کی ہے وہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کو تیار نہ کرنے کے سلسلے میں ہے، جبکہ رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق ہم نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس بنا پر مشترکہ جامع ایکشن پلان قوم کے لیے باعث افتخار دستاویز ہو گا اور اس پر عمل درآمد سے ایران کے مفادات اور قومی حاکمیت کا تحفظ ہو گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے آج کے اجلاس میں بیان کیے گئے موقف اور آراء نے اس وقت مشترکہ جامع ایکشن پلان پرعمل درآمد کے لیے راستہ متعین لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ حکومت سے توقعات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری سے ظاہر ہو گیا کہ ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد جو چیز ایران کے لیے اہمیت رکھتی ہے وہ مزاحمت اور استقامت و پائیداری کے راستے پر گامزن رہنا ہے۔