Oct ۲۲, ۲۰۱۵ ۱۶:۴۳ Asia/Tehran
  • فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی بے عملی کے خاتمے کا انتظار
    فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی بے عملی کے خاتمے کا انتظار

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے علاقے کے دورے کے بعد سلامتی کونسل کے رکن ممالک، فلسطینی عوام پر صیہونیوں کے حملے رکوانے کے لئے کوئی چارہ کار تلاش کریں گے اور ایک بار پھر فلسطینیوں کی مایوسی کا سبب نہیں بنیں گے-

ریاض منصور نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام پر یلغار کرکے ایک غاصب حکومت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں اور معاہدے سے عملی طور پر روگردانی کی ہے اور وہ انھیں حملوں، قتل اور قتل عام کا نشانہ بنائے ہوئے ہے-
انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری اور فریضہ ہے کہ جب تک فلسطینی زمینوں سے قبضہ ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک فلسطینی عوام کی حمایت وحفاظت کرے-
اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل ، ایک بار پھر اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل درآمد نہ کر کے فلسطینی عوام کی مایوسی کا باعث نہیں بنے گی اور جمعرات کو اس کونسل کا اجلاس کم سے کم ایک ایسا اعلامیہ جاری ہونے پر ضرور منتج ہونا چاہئے جو فلسطینی عوام کی جان کی حفاظت کا ضامن ہو-
فلسطینی ایسی حالت میں صیہونی حکومت کے جرائم کے سامنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے عملی کے خاتمے کی توقع کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کے اپنے دورے کے موقع پر ماضی کی مانند فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کرنے سے گریز کیا کہ جس پر فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہو رہی ہے-

اس تناظر میں تحریک حماس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے صیہونی حکومت کی طرفداری پر شدید تنقید کی ہے-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہ جو مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کے دورے پر تھے صیہونی غاصبوں کے جرائم کو نظرانداز کرتے ہوئے غرب اردن اور انیس سو اڑتالیس کی مقبوضہ زمینوں پر تشدد اور بحران جاری رہنے پر تشویش ظاہر کی اور فلسطینیوں اور صیہونیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی-
فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کا نیا سلسلہ ہر روز ہولناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی جرائم کے سامنے عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کا کمزور اور غیرفعال رویہ بدستور جاری ہے-
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی بے عملی کا کچھ تعلق خود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ہے کہ جنھوں نے صیہونی جرائم کی زبانی مذمت سے بھی گریز کیا ہے-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون ایسی حالت میں صیہونی حکومت کے جرائم کی کھل کر مذمت کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منشور کے مطابق اقوام متحدہ سب سے بڑے بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے عالمی سطح پر امن و سیکورٹی قائم کرنے اور علاقائی و عالمی امن کے لئے خطرہ بننے والوں سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل صیہونی جرائم کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس غاصب حکومت کے سامنے کمزور اور بےعملی کا موقف اختیار کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ اور حمایت جاری رکھنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں-
بان کی مون کی کمزور کارکردگی کے باعث اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری جنرل کا عہدہ عملی طور پر پہلے سے زیادہ بے اثر اورتسلط پسند طاقتوں کے پیرو میں تبدیل ہو چکا ہے-
صیہونی جرائم کے سامنے اقوام متحدہ کا کمزور موقف صرف اس ادارے کے عہدیداروں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پس و پیش اور لیت و لعل بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ جس کو فلسطینیوں اور رائے عامہ نے بھی ہدف تنقید بنایا ہے-

ٹیگس