اسرائیل کی عسکریت پسندی اور غزہ کے محاصرے کو سخت کرنے کے لیے اس کے اقدامات
Nov ۱۵, ۲۰۱۵ ۰۶:۴۳ Asia/Tehran
ایک ایسے وقت میں کہ جب آٹھ سال سے زائد عرصے سے غزہ کا سخت ترین محاصرہ جاری ہے، صیہونی حکومت کے وزیر جنگ موشے یعلون نے کہا ہے کہ صیہونی فوج نے غزہ پٹی سے لگنے والی سرحد پر خندق کھودنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں کہ جب صیہونی حکومت نے غزہ پٹی پر فوجی جارحیت کے دوران فلسطینیوں کے خلاف بےشمار انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا تھا اب وہ غزہ پٹی کا محاصرہ مزید سخت کر کے عملی طور پر زیادہ سے زیادہ فلسطینیون کو جان سے مار دینا چاہتی ہے۔غزہ پٹی کو آٹھ سال کے محاصرے کے بعد انتہائی سنگین صورت حال کا سامنا ہے اور عالمی برادری کے انتباہات کے باوجود اس فلسطینی علاقے کا محاصرہ بدستور جاری ہے۔ ایسے حالات میں اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کا فوجی بجٹ دو ہزار پندرہ میں بڑھ کر پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ صیہونی حکومت کے ابتدائی اتفاق رائے کے مطابق اس حکومت کا فوجی بجٹ رواں سال کے دوران تقریبا چودہ ارب چوبیس کروڑ ڈالر پیش نظر رکھا گیا تھا لیکن شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بجٹ میں پچھتر کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا۔
سیاسی حلقے صیہونی حکومت کی توسیع پسندی اور پرتشدد پالیسیوں کو صیہونی حکومت کے فوجی اخراجات میں اضافے کی ایک اصلی وجہ قرار دیتے ہیں۔ علاقے میں صیہونی حکومت کے فوجی خطرات اور جنگ پسندانہ اقدامات میں اضافہ اور شدت ایک ایسے وقت میں آئی ہے کہ جب صیہونی حکومت کے فوجی بجٹ میں غیرمعمولی اضافے پر عالمی رائے عامہ کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب صیہونی حکومت کی عسکریت پسندی اور اس کے فوجی بجٹ میں اضافے پر صہونی حکومت کے داخلی حلقوں میں بھی تنقید ہو رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اسرائیل کے اخبار ہاآرتص کے اقتصادی امور کے ماہر نحامیا اشتراسلر نے کچھ عرصہ قبل صیہونی حکومت کے فوجی حکام کی جانب سے مظلومیت کا دکھاوا کرنے اور فوجی بجٹ میں کمی کے ان کے دعوے کا مذاق اڑایا۔ اس اسرائیلی صحافی نے لکھا کہ اسرائیل کا بھاری فوجی بجٹ ایک ایسے وقت میں ہے کہ جب اس کے اخراجات اسرائیلی اور امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے پورے کیے جائیں گے اور فوج نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ وہ فوجی تربیت اور مہم جوئی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے بہانے مزید بجٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی سالانہ امداد سمیت مغرب کی جانب سے اس حکومت کو دی جانے والی بلامعاوضہ امداد کا زیادہ حصہ بھی فوجی شکل میں دیا جاتا ہے جبکہ اسرائیل کے دیگر شعبوں کے بجٹ پر بھی اس حکومت کی توسیع پسندی اور فوجی و سیکورٹی پہلو کا سایہ رہتا ہے اور صیہونی کالونیوں اور نسل پرستانہ صیہونی دیوار کی تعمیر کے شعبوں نیز غزہ کا محاصرہ سخت کرنےکے لیے اس کے اطراف میں خندق کی کھدائی کے لیے صیہونی حکومت کے منصوبوں کے لیے بھاری بجٹ مختص کرنے کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
مغرب کی وسیع امداد کی وجہ سے صیہونی حکومت کا سالانہ بجٹ کافی زیادہ ہے صیہونی حکام کی جانب سے دسیوں ارب ڈالر نام نہاد سیکورٹی اور فوجی شعبوں نیز تسلط پسندانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے مختص کرنا صیہونی حکومت کے دیگر شعبوں کے بجٹ میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کو شدید اقتصادی مشکلات اور بحران کا سامنا ہے۔
بلاشبہ صیہونی حکومت کے بھاری فوجی بجٹ اور غزہ کا محاصرہ سخت کرنے کے لیے اس حکومت کے اقدامات نے اس ناجائز اور غاصب حکومت کی جنگ پسندانہ اور تشدد پسند ماہیت کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔ صیہونی حکومت کہ جسے داخلی اور خارجی سطح پر بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، یہ چاہتی ہے کہ فوجی اقدامات میں شدت لا کر اسرائیل کے اندر اور باہر صیہونی حکومت کی مشکلات سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ خوف و دہشت پیدا کر کے مشرق وسطی کے علاقے میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھائے۔