Feb ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۱ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی انتہا پسندانہ پالیسیاں

سعودی عرب اپنے پٹھووں کے ساتھ مل کر علاقے میں اپنی نام نہاد طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

سعودی عرب نے ان دنوں نئے اقدامات شروع کئے ہیں تا کہ علاقے میں اپنی نام نہاد طاقت کا مظاہرہ کرسکے۔ ایک سال سے سعودی عرب یمن میں براہ راست جنگ کررہا ہے اور اس ملک پر اسکی فضائی جارحیت جاری ہے۔ اس وقت بھی سعودی عرب نے جبکہ شام میں ممکنہ فوجی مداخلت کی بات ہورہی ہے مشترکہ فوجی مشقوں کی خبردی ہے۔

سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ رعد شمال نامی فوجی مشقیں کئی ممالک کی شراکت سے انجام پائیں گی۔ متحدہ عرب امارات کے اخبار گلف نیوز نے ان فوجی مشقوں کے بارے میں تجزیے میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے کی فوجی مشقوں میں لڑاکا طیاروں، جنگی ساز و سامان اور سی ایس ایس ٹو بیلسٹیک میزائیلوں کی نمائش سے دنیا کے بعض ملکوں بالخصوص ایران کو پیغامات بھیجے گئے تھے۔ اس اخبار کے مطابق ان فوجی مشقوں میں بھی جو اٹھارہ دنوں تک جاری رہیں گی مصر، اردن، پاکستان، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور یمن شرکت کریں گے۔

سعودی عرب نے خاص طور سے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدے اور اس پر عمل درآمد کے بعد یہ احساس کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ الک تھلگ ہوگیا ہے اور امریکہ کے لئے آل سعود کا کردار اب ختم ہوچکا ہے اس تشویش کی البتہ کچھ دلیلیں بھی ہیں اور ان میں ایک علاقے میں اپنی پوزیشن اور مطلق العنانی کے بارے میں غلط تصورات ہیں۔ سعودی عرب اپنے بے بنیاد تصورات کی بنا پر جو اس شاہی خاندان کے برسوں پرانے روایتی افکار کا نتیجہ ہیں یہ سوچتا ہے کہ وہ تیل کی آمدنی اور ہتھیار خرید کر علاقے میں اسٹراٹیجیک رول ادا کرسکتا ہے۔ اس غلط تصور سے سعودی عرب متعدد مسائل کا شکار ہوچکا ہے جن میں بحرین میں عوام کے پرامن احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کےلئے فوج بھیجنا، یمن پر کھلم کھلا جارحیت اور اس ملک کو تقسیم کرنے کی سازش، تیل کی جنگ شروع کرنا اور شام میں صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کے لئے دہشتگرد گروہوں کی اعلانیہ حمایت شامل ہیں۔ سعودی عرب نے ان جارحانہ اقدامات کی تکمیل کے لئے ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ کشیدگی لانے کے نئے دور کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔

سعودی عرب کے یہ سارے اقدامات ایسے حالات میں ہیں کہ حج کے انتظامات سنبھالنے میں ان کی نااہلی پہلے ہی سے ثابت ہوچکی ہے۔ اس سال حج کے دوران پیش آنے والے حادثات میں پانچ ہزار سے زائد حجاج مارے گئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کے حکام اپنے لئے اور علاقے میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان اقدامات کے علاوہ آل سعود داخلی سطح پر عوام کے احتجاج کو کچل رہی ہے اور اس نے سعودی عرب کے مجاہد اور معروف عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی دے کر شہید بھی کردیا ہے۔

اس وقت سعودی عرب وسیع پیمانے پر بجٹ خسارے کا شکار ہے کیونکہ تیل کی آمدنی کم ہوگئی ہے ، اسی بناپر سعودی عرب کی حکومت نے اپنے اخراجات بھی کم کردئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے مالی بجٹ کو اٹھانوے ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔

ان تمام مسائل کے باوجود آل سعود کے حکام کے موقف اور بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ بدستور خام خیالی کا شکار ہیں۔ آل سعود کے حکام حتی ایٹمی ہتھیار خریدنے کے خیال میں بھی ہیں۔

سیاسی مبصرین کی نظر میں یہ تصور کہ ریاض ایران کو علاقے کے مسائل سے خارج کرسکتا ہے ایک خام خیالی ہے جس کی تعلیم گذشتہ ایک دہائی سے آل سعود کے مغربی حامیوں نے انہیں دی ہے حالانکہ مغرب جانتا ہے کہ سعودی عرب دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ ثبوت و شواہد سے بھی پتہ چلا ہے کہ گیارہ ستمبر دوہزار گیارہ کو امریکہ میں طیاروں کو اغوا کرنے والے انیس افراد میں سے پندرہ افراد سعودی عرب کے شہری تھے اور ان لوگوں نے یہ طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جڑواں عمارتوں سے ٹکرائے تھے۔

درحقیقت امریکہ اور اس کے یورپی اور علاقائی اتحادیوں نے سعودی عرب سے غلط فائدہ اٹھا کر اسے انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا تھا اور اب انہیں خود انتہا پسندی سے تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ ہفت روزہ ابزرور نے اتوار کو ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے لئے ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگانے نیزیورپ کی طرف سے اس ملک کا اسلحہ جاتی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ ان ملکوں نے خاص طور سے برطانیہ سے یہ اپیل کی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے کشیدگی پھیلانے سے علاقے میں اس کے کردار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ اس اقدامات سے آل سعود کی حکومت ہرروز مسائل کا شکار اور الگ تھلگ ہوتی جائے گی۔

ٹیگس