Jul ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۸:۵۱ Asia/Tehran
  • سعودی عرب اور صیہونی حکومت سکے کے دو رخ

صیہونی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے سازشی رویے کھل کر سامنے آرہے ہیں جس پر فلسطین کی رائے عامہ نے سخت اعتراض اور تنقید کی ہے۔

عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیاسی دفتر کے رکن کاید الغول نے صیہونی حکام سے آل سعود کے حکام کی ملاقاتوں کے خطرناک نتائج کی بابت انتباہ دیا ہے۔ کاید الغول نے کہا ہےکہ صیہونی حکام سے سعودی حکام کی ملاقاتوں سے علاقے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈوری گولڈ سے سعودی عرب کے سابق جنرل اور ریاض اسٹراٹیجیک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ انورعشقی کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تل ابیب ہرگزعرب اور فلسطینیوں کے مفادات کو مثبت نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ یاد رہے انورعشقی نے دیگر صیہونی حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ادھر تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سینئر رکن خالد البطش نے کہا ہےکہ سعودی وفد کا دورہ مقبوضہ فلسطین، فلسطینی کاز کے نقصان میں ہے اور اس کے سہارے صیہونی حکومت مزید یہودی کالونیاں بنائے گی اور قدس شریف کو یہودی رنگ دے گی۔

واضح رہے انورعشقی جو سعودی انٹلیجنس کے سربراہ بندر بن سلطان کے مشیر بھی رہ چکے ہیں انہیں تدریجی طورپرآل سعود اور صیہونی حکومت کے خفیہ تعلقات کو آشکار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عالم اسلام اورعربوں بالخصوص فلسطینی قوم کے حق میں آل سعود کی خیانتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انورعشقی نے مختلف ملکوں میں صیہونی حکام سے ملاقاتیں کرنے کے بعد گذشتہ ہفتے تل ابیب کا دورہ کرکے صیہونیوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

سعودی عرب اور صیہونی حکام کے درمیان مذاکرات کا نیا دور ایسے عالم میں شروع ہوا ہے کہ آل سعود کی حکومت عرصے سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات بنانے اور مغربی ملکوں کے مفادات کے مطابق ساز باز مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے درپے تھی۔ اسی ھدف کے تحت آل سعود کے حکام نے عرب صلح تجویز پیش کی جس میں صیہونی حکومت کےساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

عرب صلح تجویز سنہ دوہزار دو میں بیروت میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔اس تجویز میں چونکہ وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کے حقوق منجملہ فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور فلسطینی قیدیوں کے حقوق نظر انداز کئے گئے ہیں اور صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی ہے تو اسے فلسطین کے حق میں خیانت کاری پر مبنی تجویز قرار دیا جارہا ہے۔

عرب صلح تجویز میں صیہونی حکومت کے ساتھ بائیس عرب ملکوں کی جامع صلح اورعرب ملکوں کی جانب سے صیہونی حکومت کو تسلیم کئےجانے کی بات کی گئی ہے جس کے عوض صیہونی حکومت انیس سو سڑ سٹھ کی سرحدوں تک واپس چلی جائے گی۔

بعض حکومتوں کی جانب سے صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز مذاکرات جاری رکھنے پر تاکید ایسے عالم میں سامنے آرہی ہےکہ صیہونی حکومت سے مذاکرات کرنے کا نتیجہ صیہونی جرائم میں شدت اور اس حکومت کی بڑھتی ہوئی گستاخی نیز اسکی توسیع پسندی اور جارحیت کےعلاوہ کچھ اور نہیں آیا ہے۔

صیہونی حکومت کے مقابل عرب ملکوں کا تسیلم ہوجانے کے نتیجے میں صیہونی حکومت کے ساتھ ان کے رابطوں اور تعلقات میں کافی وسعت آئی ہے۔ غزہ کا محاصرہ کرنے میں صیہونی حکومت کے ساتھ مصرکا بھرپور تعاون، اور مختلف میدانوں میں صیہونی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کا  تعاون حالیہ برسوں میں صیہونی حکومت کے ساتھ عرب ملکوں کے تعاون کی مثالیں ہیں۔

 علاقے میں صیہونی حکومت کے خلاف جاری استقامت کے خلاف صیہونی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات،استقامت کو کمزور بنانے اورعلاقے میں دہشتگردوں کی مدد کرنے میں ان کا باہمی تعاون صیہونی حکومت اور آل سعود کی حکومتوں کی جو کہ دہشتگردی کا سرچشمہ ہیں قلعی کھول دیتا ہے۔

عالمی رائے عامہ علاقے میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے اقدامات کو ایک سکے کے دو رخ سمجھتی ہے اور اس بات پر انتباہ دیتی ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے علاقے کے لئے نہایت خطرناک نتائج نکلیں گے۔  

 

 

 

 

ٹیگس