چین افغان فوج کو مسلح کرنے کے لئے تیار
چینی فوج نے افغان فوج کو فوجی اور جدیدترین ہتھیاروں سے مسلح کرنے کے لئے آمادگی کا اعلان کیا ہے
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کی پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا ہے کہ چین کی مسلح افواج کے سربراہ لی زوچیگ نے بیجنگ میں افغانستان صدر کی قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر سے ملاقات میں افغان فوج کو فوجی اور جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے- لی زوچیگ نے دہشتگردی کو علاقے اور دنیا کے لئے مشترکہ خطرہ قراردیتے ہوئے تمام دہشتگرد گروہوں کے ساتھ یکساں اور متوازن جنگ کرنے پر تاکید کی ہے-
بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں حنیف اتمر نے افغان سیکورٹی فورس کے ساتھ چین کے فوجی تعاون اور شانگھای تعاون تنظیم کے کردارکے فروغ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہمیت کا حامل قرار دیا ہے-
قومی سلامتی کے امور میں افغان صدر کے مشیر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شانگھای تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے کردار میں توسیع کوعلاقے میں امن و استحکام میں بہتری کا سبب بننے پر بھی تاکید کی- قومی امور میں افغان صدر کے مشیر کا دورہ چین اور اس ملک کے بعض حکام سے گفتگو بیجنگ اور کابل کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے انجام پائی ہے کہ جو حالیہ برسوں میں ان کے خاص ایجنڈے میں شامل رہی ہے-
افغانستان اور چین اپنے مفادات کو باہمی تعاون کے فروغ کے دریچے سے دیکھتے ہیں اور تعلقات کے فروغ کو اس کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں - افغان حکومت کہ جسے میل باطنی کے برخلاف اس ملک میں بڑی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ آرائی کا سامنا ہے اس کوشش میں ہے کہ اس رقابت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے- افغان حکومت امریکہ کی فوجی و مالی مدد میں کمی کی بنا پر یہ کوشش کررہی ہے کہ امریکہ کی جانب سے سیکورٹی و دفاعی حمایتوں میں کمی کی تلافی اس کے چین اور روس جیسے حریفوں سے پوری کرے- بیجنگ اور ماسکو بھی اپنی طویل اسٹریٹیجی کے پیش نظر اس کوشش میں ہیں کہ اس امر کو کابل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کریں- ایک چیز کہ جو افغان حکومت کی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں ہے وہ فوجی اور سیکورٹی ضرورتیں پورا کرنا ہے جس کے لئے چین اور روس نے بارہا آمادگی ظاہر کی ہے-
ان حالات میں افغانستان کے صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی کا دورہ چین اور چین کے چیف آف دی آرمی اسٹاف کی جانب سے افغانستان کی فوج کو مسلح کرنے کا اعلان اس ملک میں بیجنگ کا اثر و نفوذ بڑھانے کی کوشش سے تعبیر کیا جا رہا ہے-
اس کے علاوہ حکومت چین افغانستان کے سیکورٹی اور فوجی اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد اور بدامنی کو کنٹرول میں اس ملک کی حکومت کی صلاحتیں بڑھا کراپنی سیکورٹی تشویش کو کم کرنا چاہتی ہے- کابل میں سیاسی امور کے ماہر رحمت اللہ بیجن پور کا کہنا ہے کہ چین ، افغانستان کوایک موقع سمجھتا ہے اور اسے سیاسی ، اقتصادی ، جئوپولیٹیک، اورعلاقے میں ثقافتی و سماجی مشارکت کے لئے اہم پوزیشن کا حامل سمجھتا ہے لیکن افغانستان میں بحران اس پر اثرانداز ہے- اس کے باوجود چین چاہتا ہے کہ افغانستان میں براہ راست موثر واقع ہو تاکہ اس ملک میں بحران اور چین پر اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اپنی تشویش کم کرے-
بیجنگ حکام کو تشویش ہے کہ افغانستان کی جانب سے بدامنی اور دہشتگردی کہیں چین میں بھی سرایت نہ کرجائے اور اس مسئلے نے افغانستان میں امن و جنگ کے حالات کو بڑھا دیا ہے-