ایٹمی معاہدے کے سلسلےمیں امریکہ اور فرانس کے نظریات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہم عالمی تبدیلیوں اور دوطرفہ تعلقات کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا ہے-
جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی ، امریکہ اور فرانس کے صدور کے درمیان گفتگو اور مذاکرات کا زیادہ تر حصہ ایٹمی معاہدے سے مخصوص تھا- اس پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو برا اور ناقابل قبول معاہدہ قرار دیا- جبکہ فرانس کے صدر نے نامہ نگاروں کے اجتماع میں ایران کے میزائلی پروگرام اور علاقے میں ایران کی سرگرمیوں جیسے مسائل کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب سے ہم خیال ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ٹرمپ سے اتفاق رائے نہیں رکھتے۔
امانوئل میکرون نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ابھی ایک بار پھر، ایٹمی معاہدے کے سسلے میں اپنی انتخابی مہم کے دوران جو موقف تھا اور پھر امریکی صدر بننے کے بعد ایٹمی معاہدے کے بارے میں جو آپ کا موقف ہے، اسے بیان کیا ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ہم دونوں افراد اس سلسلے میں یکساں موقف نہیں رکھتے-
فرانسیسی صدر نے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی معاہدہ ایک برا معاہدہ ہے ، جبکہ میں کئی مہینوں قبل سے کہتا آ رہا ہوں کہ یہی ایٹمی معاہدہ کافی ہے۔ اس کے باوجود میکرون نے ٹرمپ کے ہم آواز ہوکر ایران کی میزائلی اور علاقائی سرگرمیوں خاص طور پر شام میں ایران کی سرگرمیوں کو علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ ان مسائل میں امریکیوں کا ساتھ دیں گے۔
وائٹ ہاؤس میں امریکہ اور فرانس کے صدور کے اظہار خیال سے ثابت ہوگیا کہ یہ دو سیاسی اور اقتصادی اتحادی ایران کے مسئلے اور ایٹمی معاہدے کے مستقبل کے مسئلے میں، بعض امور میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے رکھتے ہیں اور بعض دیگر امور میں ابھی بھی ان کے درمیان اختلافات حل نہیں ہوئے ہیں- مثال کے طورپر ان دونوں ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ، ایران کے میزائل پروگرام سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ ایران کی فوجی ڈاکٹرائن میں میزائلیں، دشمنوں کی جارحیت کے مقابلے میں دفاع کے لئے ہیں اور یہ میزائل کسی بھی علاقائی اور غیرعلاقائی ملک کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ موسم گرما میں، دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کے لئے، کہ جس نے علاقے سمیت امریکہ اور یورپ کی سلامتی کو بھی خطرے سے دوچار کردیا ہے، اپنے میزائل استعمال کئے تھے۔ اسی طرح ایران کی مسلح افواج کی سرحد پار سرگرمیاں شام اور عراق جیسے ملکوں میں ان دونوں ملکوں کی قانونی حکومتوں کی دعوت پر ہی انجام پا رہی ہیں اور اگر ایران ، عراق اور شام میں اپنا کردار ادا نہ کرتا تو یکے بعد دیگرے ان ملکوں پر داعش کا قبضہ ہوجاتا-
ساتھ ہی امریکہ علاقے کے ثروتمند ملکوں کو زیادہ سے زیادہ ہتھیار بیچنے کے لئے، علاقے میں ایرانو فوبیا کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو دیگر ملکوں کے لئے خطرہ بتا رہا ہے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ فرانسیسیوں کی بھی کوشش ہے کہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت کے بہانے، ٹرمپ کے ذریعے مچائے جانے والے شور وغل میں خود بھی شریک ہوجائیں تاکہ فرانس کی ہتھیار بنانے والی کمپنیاں علاقے کے بعض ملکوں کو اپنے گراں قیمت ہتھیار فروخت کرسکیں۔ ایسے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی سمجھوتے کے خلاف ٹرمپ حکومت کے دشمنانہ رویوں کی فرانس کی جانب سے حمایت، ایٹمی معاہدے کی حفاظت میں نہ صرف یہ کہ کوئی مدد نہیں کرے گی بلکہ اس سے ایران اور فرانس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا-