سعودی عرب میں معاشی بحران، ہزاروں ہندوستانی بے روزگار
سعودی عرب سے وابستہ ہزاروں ہندوستانی شہری بھوک مری سے دوچار ہو گئے۔
معاشی امور کے ماہرین اور ہندوستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا کمی، یمن پرفوجی جارحیت، شام اورعراق میں مداخلت جاری رکھنے کے ساتھ ہی دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پرمالی اور سیاسی حمایت کے سبب سعودی عرب دیوالیہ ہو گیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی بحران کے سبب ہزاروں ہندوستانی محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے نکالے جانے والے ہزاروں مزدوراوران کے گھر والے بھوک مری کا شکار ہوگئے ہیں۔
اخبار"ایشیا ایج" کے مطابق سعودی عرب میں معاشی بحران کے سبب دس ہزار سے زیادہ ہندوستانی محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے۔ دوسری جانب ہندوستانی وزیرخارجہ سشما سوراج نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں سعودی عرب میں کام کرنے والے دس ہزار سے زیادہ ہندوستانی محنت کشوں کے بھوک و افلاس سے دوچار ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں سے متاثرین کی مدد کی اپیل کی ہے۔ اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ آٹھ سو مزدور ایسے ہیں کہ جنہوں نے سعودی فیکٹری مالکان کی جانب سے تنخواہوں کی عدم فراہمی کے سبب ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے سے رجوع کرکے ضرورت کے مطابق غذائی اشیا کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔
ہندوستانی وزیرخارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور کویت میں کام کرنے والے بہت سے ہندوستانی شہری بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی صورت حال نہایت ہی ابتر ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت سعودی عرب میں تیس لاکھ ہندوستانی شہری کام کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ آئندہ چند روز کے دوران بے روزگار ہونے والے شہریوں کو وطن واپس لوٹانے کا اقدام کر رہا ہے۔