ہندوستان: کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے منگل کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: نئی دہلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی نے آج کے اجلاس میں ملک میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو فوری طور پر معطل کرنے اور اس عمل کے دوران ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ناموں کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب سے جاری قرارداد میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رپورٹوں سے اس کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے دور میں الیکشن کمیشن کے کام کاج پر حکمراں جماعت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اثر بڑھا ہے۔
قرارداد میں کانگریس نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔
کانگریس نے اپنی قرارداد میں پارٹی رہنما راہل گاندھی کی جانب سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ پارٹی نے ای وی ایم، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے طریقۂ کار، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار اور انہیں حاصل قانونی تحفظ جیسے معاملات کو بھی اپنی تشویش کا حصہ قرار دیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراضات درج کرائے۔ ان میں ایس آئی آر کے دوران استعمال ہونے والے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست کے ذریعے گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں اور ایس آئی آر کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے اگلے ہفتے سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel