دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے مطالبات منظور، احتجاج ختم
ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے جمعرات کو اپنا 18 روزہ احتجاج ختم کردیا۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بعد کیا گیا۔
سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے مطالبات یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے بعد اپنا احتجاج ختم کردیا ہے۔ مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے وقت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
جمعرات کی شام جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں انتظامیہ نے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور اس کے نفاذ کے لیے 15 مئی کی آخری تاریخ مقرر کی۔ حکم نامے کے مطابق آئندہ تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر یا اگست کے اختتام تک طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ 12 اکتوبر سے کیمپس میں احتجاج کر رہے تھے جبکہ ان میں سے پانچ طلبہ بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے تھے۔
اطلاعات کے مطابق 16 اکتوبر کو یونیورسٹی نے بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ میں سے ایک کو یونیورسٹی سے خارج کردیا تھا، جبکہ دو طلبہ کو معطل کرتے ہوئے تینوں کے کیمپس میں داخلے پر ایک سال کیلئے پابندی عائد کردی تھی تاہم جمعرات کو انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کی گئی تمام تادیبی کارروائیاں واپس لے لیں۔
یونیورسٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام کورسز کی آف لائن کلاسیں پیر سے دوبارہ شروع ہوں گی، جبکہ سمسٹر کے اختتامی امتحانات بھی آف لائن منعقد کیے جائیں گے۔
اس سے قبل بدھ کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ سمسٹر کے اختتامی امتحانات آن لائن ہوں گے۔ اس وقت معمول کی کلاسیں بھی آن لائن ہی جاری تھیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel