Mar ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۸ Asia/Tehran
  • موجودہ صدی ایشیا کی صدی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ نئی ایشیائی معیشتیں، عالمی معیشت کے بہاؤ کو مغرب سے مشرق کی جانب موڑ دیں گی اور اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہو گی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں، اقتصادی تعاون کی تنظیم ای سی او کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ محض چند برسوں میں عالمی معیشت کا دل، براعظم ایشیا میں دھڑکنے لگے گا اور اقتصادی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی تعاون کی تنظیم ای سی او کی اہمیت خطے میں دوگنا ہو جائے گی۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے واضح کیا کہ دنیا کے کئی اسٹریٹیجک سمندری راستوں پر تسلط، پانچ اہم سمندروں سے تعلق اور دنیا کی توانائی کے ذخائر کی موجودگی نے، ای سی او کو بے مثال جیوپولیٹکل مقام عطا کیا ہے کیونکہ ای سی او کے خطے کے علاوہ، یورپ سے ایشیا تک کے لیے تجارت کا سب سے کم خرچ اور آسان راستہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ای سی او کے ایک بانی ملک کی حیثت سے، کہ جس کی سرحدیں ای سی او کے چھے رکن ملکوں سے ملتی ہیں اور دنیا کے تیل و گیس کے بڑے ذخائر کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطے کا مرکز بھی ہے، تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان تعلقات کو پائیدار بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران، ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانسپورٹیشن، مالیاتی اور بینکاری لین دین، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت و فوڈ سیفٹی، ثقافت وسیاحت، ماحولیات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں ای سی او کے رکن ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ دہشت گردی اور تکفیری نظریات، ساری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں اور اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم آہنگی اور تعاون، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ جب تک سلامتی کا خطرہ لاحق رہے گا، اس وقت تک ترقی و پیشرفت کے حوالے سے تابناک مستقبل کی امید نہیں کی جا سکتی۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے بالادستی کی سوچ اور تباہ کن رقابت سے دوری کو دہشت گردی سمیت خطے کی مختلف مشکلات کے حل کے لیے ضروری قرار دیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ افغانستان، عراق، شام اور یمن میں ہزاروں بے گناہوں کے قتل اور ان ملکوں میں لاکھوں لوگوں کی دربدری کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ داخلی تنازعات اور بیرونی مداخلت کے مقابلے میں خطے کو نقصان پہنچنے کے اندیشوں میں اضافہ ہوا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اقتصادی تعاون کی تنطیم ای سی او، اس خطے کو تمام آباد قوموں کے لیے پرامن علاقے میں تبدیل کرنے کا مناسب پلیٹ فارم ہے اور اجتماعی سلامتی کے ماحول میں رہتے ہوئے ہی تنطیم کے رکن ملکوں کو ترقی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے۔

ٹیگس