Mar ۰۲, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۲ Asia/Tehran
  • ای سی او کے رکن ملکوں میں تعلقات کو فروغ دیئے جانے کا عزم

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ای سی او کے رکن ممالک مشترکہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور ان ملکوں کے درمیان تعاون کی کافی گنجائش موجود ہے جس سے استفادہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نےاسلام آباد میں ای سی او کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپسی پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ای سی او کا یہ اجلاس، اس تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں رشتوں کو مضبوط بنائے جانے پر تاکید کے ساتھ منعقد ہوا، کہا کہ ای سی او کے تیرہویں سربراہی اجلاس میں رکن ملکوں کے درمیان راستوں، ریلوے لائن، بحری جہاز رانی، تیل و گیس کے شعبوں تعاون کی توسیع اور ان ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں پائی جانے والی رکاوٹوں کو دور کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

صدر مملکت نے اس اجلاس کے موقع پر مختلف ملکوں کے سربراہوں منجملہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان اور ترکی، ای سی او کے بانی ممالک ہیں اور پاکستان و ترکی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ترکی کے صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات منجملہ بینکینگ کے شعبے میں تعلقات کی توسیع اور تجارت کے لئے ملکی کرنسی سے استفادہ کئے جانے کے مسئلے کے ساتھ ساتھ جو تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم ہے، علاقے کے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ یہ بات خوشی کی ہے کہ اس وقت علاقائی مسائل کے حل کے سلسلے میں ایران، ترکی اور روس کے درمیان مناسب اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ شام کی صورت حال، شام کی تقدیر کا فیصلہ شامی عوام کے ہی ہاتھوں ہونے پر تاکید، دہشت گردی کے خلاف جنگ، ایران، ترکی اور عراق کے درمیان تعاون کی توسیع، نیز یمن کے مسائل و مشکلات اور یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ہی ذریعے یمن کے مسئلے کے حل پر زور وہ جملہ معاملات تھے جن پر ترکی کے صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو ہوئی۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور تعاون کے فروغ کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مختلف شعبوں خاص طور سے بیکینگ کے شعبے میں روابط کی توسیع اور دونوں ممالک میں بینکوں کی برانچ کھولے جانے سے متعلق سمجھوتے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی اور میاں نواز شریف نے، ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے اقتصادی اور تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد اور توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھائے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صدر ایران اور وزیراعظم پاکستان نے بعض علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور سنہ دو ہزار پچیس کے ای سی او کے ترقیاتی پیکیج کی روشنی میں، خطے کے تمام ملکوں کے درمیان تعاون کو ضروری قرار دیا۔ ای سی او کے رکن ملکوں کے درمیان علاقائی کوریڈور اور مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کا معاملہ بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں زیر بحث رہا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر اور اقتصادی تعاون کی تنظیم ای سی او کے تیرہویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے منگل کو اسلام آباد پہنچے تھے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اقتصادی تعاون کی تنظیم ای سی او کا تیرہواں سربراہی اجلاس، بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کر کے ختم ہو گیا۔

قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی، پاکستان، افغانستان، ترکمنستان،کرغیزستان، ازبکستان، قزاقستان، تاجیکستان اور جمہوریہ آذربائیجان، ای سی او کے رکن ممالک ہیں۔

ٹیگس