ایٹمی معاہدے سے نکلنا امریکا کے لئے مہنگا پڑے گا
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکا مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو اس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک گئے ہوئے ہیں امریکی ٹی ویژن چینل سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو واشنگٹن کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑےگی- انہوں نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کے ممکنہ طور پر نکل جانے کی صورت میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکی حکام اتنی بھاری قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے اقدام کے عوض جس کی انجام دہی ان کےلئے بے سود ہوگی - صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ ممکنہ اقدام نہ صرف امریکا کے لئے کوئی فائدہ نہیں رکھتا بلکہ ایسا کرنے کی صورت میں پوری دنیا کا اعتماد امریکا پر سے اٹھ جائے گا اور اس کے تئیں بے اعتمادی کی فضا میں اضافہ ہوگا - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اس وقت واشنگٹن شمالی کوریا کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے اور اگر وہ ایٹمی معاہدے سے نکل جاتا ہے تو وہ شمالی کوریا کو کیسے اس بات کی ضمانت دے پائے گا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے پر بھروسہ کرے - صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں اپنے قیام کے دوران فرانس کے صدر امانوئل میکرون سے بھی ملاقات میں کہا کہ اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کے ثمرات کو نقصان پہنچے - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے سبھی فریقوں کو چاہئے کہ وہ اس معاہدے پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بھی اس پر عمل درآمد کرنے کی یاد دہانی کراتے رہیں- انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکا کی موجودہ حکومت کا رویّہ عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث ہے - صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے کہاکہ ایٹمی معاہدے پر نگرانی کا حق صرف آئی اے ای اے کو ہے جس نے اب تک سات مرتبہ صراحت کے ساتھ ا پنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ ایران نے اس معاہدے کی پوری پابندی کی ہے - انہوں نے کہا کہ بعض افراد کو اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ ایٹمی معاہدے جیسے شفاف معاہدے کو دیگر مسائل سے مشروط یا مربوط کریں - فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ سبھی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے - فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس ایٹمی معاہدے پرمکمل درآمد کے حق میں ہے اور اس معاہدے کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کا مخالف ہے اور انہیں بے معنی سمجھتا ہے -