Jun ۲۲, ۲۰۱۹ ۱۷:۵۹ Asia/Tehran
  • ایرانی قوم سفارتکاری کا سفارتکاری اور جنگ کا مردانہ وار دفاع کے ساتھ جواب دے گی (تفصیلی خبر)

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ کے بیان کے ردعمل میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ایرانی قوم سفارتکاری کا سفارتکاری، جنگ کا شجاعانہ دفاع کے ساتھ جواب دے گی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم سفارتکاری کو سفارتکاری، جنگ کا شجاعانہ دفاع کے ساتھ جواب دے گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے جمعہ کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برایان ہک کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم سفارتکاری کا سفارتکاری، باہمی احترام کا احترام اور جنگ کا مردانہ وار طریقے سے بھرپور دفاع کے ساتھ جواب دے گی۔

انھوں نے کہا کہ برایان ہک، برسوں تک ایرانی قوم کے خلاف مسلط کردہ جنگ اور اقتصادی دہشت گردی نیز قراردادوں کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کو سفارتکاری قرار دیتے رہے۔

سید عباس موسوی نے کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف گزشتہ سالوں میں مسلط کردہ جنگ، معاشی دہشتگردی اور معاہدوں کی خلاف ورزی کا مطلب سفارتکاری نہیں ہے۔

امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برایان ہک نے ایران کے سمندری حدود میں امریکہ کے جاسوس طیارے کو مار گرائے جانے کے ردعمل میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایسی سفارتکاری کو قبول نہیں کرے گا کہ ایران اپنی فوج کا استعمال کرے اور ایران کو چاہئے کہ واشنگٹن کی سفارتکاری کے مقابلے میں سفارتکاری کو بروئے کار لائے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کا ایک گلوبل ہاؤک ڈرون طیارہ جنوبی ایران کے صوبے ہرمزگان میں ایران کے سمندری حدود میں داخل ہونے کے بعد ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے حملے کا نشانہ بنا اور تباہ ہو گیا۔

مار گرایا جانے والا یہ طیارہ، امریکہ کا جدید ترین ڈرون طیارہ رہا ہے جبکہ اسے ایران کے فضائی حدود میں داخل کئے جانے کا اقدام ایک اشتعال انگیز اقدام رہا ہے اور اس کے اس اقدام سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں بدامنی و کشیدگی کا اصلی عامل، امریکہ ہی ہے۔

امریکہ کے اس ڈرون  طیارے نے فضائی قوانین پر بھی عمل نہیں کیا اور اس نے اپنی پہچان بتانے کے تمام وسائل کو آف کر کے خفیہ طور پر ایران کے آبنائے ہرمز کے علاقے میں داخل ہونے کا اقدام کیا اور ایران کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دیں جو پھر ایران کی جانب سے جوابی اقدام کا نشانہ بنا اور تباہ ہو گیا۔

امریکہ کا یہ ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے بعد امریکہ کے سیاسی و فوجی حکام نے دعوی کیا کہ یہ طیارہ بین الاقوامی سمندر کے اوپر فضا میں پرواز کر رہا تھا جسے ایران نے حملے کا نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران اپنی تمام زمینی، بحری اور فضائی حدود کا غیرت مندانہ طریقے سے دفاع کرے گا، کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی اس نئی جارحیت کے مسئلے کو اقوم متحدہ میں پیش کر دیا ہے اور ایران اس بات کو ثابت کرے گا کہ امریکہ کا یہ دعوی بلکل جھوٹا ہے کہ اس کا یہ ڈرون طیارہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پرواز کر رہا تھا۔

ایران کی نقشہ برداری کی تنظیم نے بھی امریکی دعوے کے ردعمل میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کا یہ ڈرون طیارہ، ایران کے سمندری حدود کی فضا میں مار گرایا گیا ہے۔

ایران کی اس تنظیم نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ کا یہ ڈرون طیارہ ایران کے ہرمزگان کے سواحل میں آٹھ میل کے فاصلے پر کرتان اور کوہ مبارک کے درمیانی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سمندری حقوق سے متعلق انیس سو بیاسی کے کنوینشن کی بنیاد پر ایران کے ہرمزگان ساحل سے بارہ میل تک کا فاصلہ، ایران کا سمندری علاقہ ہے ۔

اس رو سے امریکہ کا یہ طیارہ ایرانی سمندری حدود کی فضا میں پرواز اور جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔

ایرانی حکام نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام اپنے مراسلوں میں ایسی دستاویزات پیش کردی ہیں کہ امریکہ کے ڈرون طیارے نے ایرانی سمندری حدود کی فضا میں داخل ہو کر قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کی اور نتیجے میں اسے مار گرایا گیا۔

ٹیگس