May ۲۸, ۲۰۲۰ ۱۸:۴۴ Asia/Tehran
  • ہماری اسٹریٹیجی دفاعی ہے، مگر ٹیکٹکس نہیں: جنرل سلامی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے کہا ہے کہ ہمارا دفاع اسٹریٹیجک اور ٹیکٹکس عسکری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی دشمن سے مرعوب ہونے والا ملک نہیں ہے ۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی نے بندر عباس میں ایک سو جنگی کشتیاں بحری یونٹ کے حوالے کیے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہم دفاعی پیداوار اور طاقت کے میدان میں جدید ترین ترقی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو ایران کے اسلامی انقلاب  کی عظمت اور ملک کے طاقتور دفاعی نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جنرل حسین سلامی نے واضح کیا کہ ایران نے یہ تمام تر دفاعی ترقی پابندیوں کے دوران ایرانی ماہرین کی توانائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے حاصل کی ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپاہ پاسدارن کے بحری دستے کا مشن یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اور ایران کی دفاعی طاقت کے حصار کو جہاں تک ہو سکے وسیع کیا جائے، تاکہ ملک کی خود مختاری، اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے تعلق سے پورا اطمینان حاصل ہو اور دور دراز کے علاقوں تک دشمن کا تعاقب کیا جا سکے۔

 جنرل حسین سلامی نے کہا کہ اگرچہ امریکہ وسیع مادی طاقت کا حامل ملک ہے لیکن امریکیوں کے پاس اپنی مادی طاقت کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی پوری توانائیاں خرچ کرنے کے باوجود، بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔

اس موقع پر ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیر جنرل امیر حاتمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرفیس فلوٹنگ یونٹوں یا جنگی بحری جہازوں کے ذریعے ہم کھلے سمندروں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کے بحری دستے میں ایک سو نئی جنگی کشتیوں یا بحری جہازوں کی شمولیت سے خلیج فارس اور خاص طور سے آبنائے ہرمز میں سلامتی کا حصار اور ابھی زیادہ مضبوط ہوگا۔

ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ اس سال کھلے سمندروں میں ایران کے بحری مشنوں میں اضافہ ہوگا اور مجموعی طور پر زمینی، سمندری اور فضائی نیز الیکٹرانک جنگ کے آلات و ساز و سامان نیز خلائی میدان میں ملک کی پیداواری گنجائش میں اضافہ کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران شروع ہی سے پانچ ہزار کلومیٹر طویل ساحلوں، سمندری اور تیل و گیس کے عظیم قدرتی ذخائر کے حامل ہونے کی وجہ سے بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس تین بر اعظموں کے درمیان رابطے کا سب سے بڑا اور اہم ترین مرکز ہے اور زیر آب قدرتی ذخائر کی وجہ سے دنیا کا اہم ترین اسٹریٹیجک خطہ شمار ہوتا ہے۔

اس سے قبل مختلف کلاس کی ایک سو میزائل بردار جنگی  کشتیاں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری دستے میں باضابطہ طور پر شامل کی گئیں۔ عاشورا، طارق اور ذوالفقار کلاس کی یہ جنگی کشتیاں ایران کی وزارت دفاع اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ماہرین کے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں اور ان میں سے بعض کی جدید کاری بھی کئی گئی ہے۔ یہ جنگی کشتیاں بہترین ہائیڈرو ڈائنامک صلاحیت کی حامل ہیں، ان کی رفتار انتہائی مناسب اور ان میں حملہ کرنے کی خوب توانائی موجود ہے۔

ٹیگس

کمنٹس