پابندیاں شامی بحران کے طولانی ہونے کا باعث بن رہی ہیں: ایران
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ شام کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کا نفاذ ایک نقصان دہ اقدام ہے اور اس سے صرف اس ملک کا بحران مزید طویل ہو گا اور عوام کے مسائل و مشکلات بھی بڑھ جائیں گیں کہ جنھیں کورونا کے پھیلاؤ جیسی دیگر پریشانیوں کا بھی سامنا ہے -
ارنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں انسانی صورتحال سے متعلق منعقدہ اجلاس میں کہا کہ سن دوہزار اکیس میں شام میں بھوک مری کے خطرے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے جلد ازجلد بین الاقوامی امداد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ ضرورت مندوں کو انسان دوستانہ امداد کی فراہمی انتہائی اہم اور اولین ترجیح کی حامل ہے لیکن صرف انسان دوستانہ امداد شام کے بحران کو حل نہیں کرسکتی اور یہ اقدام شام کے بحران کے حل کی جانب ایک بنیادی قدم قرار نہیں پاسکتا انہوں نے کہا کہ شام میں پائیدار امن کے قیام کے لئے بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے -
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ شام کے بحران کے حل کے لئے سب سے پہلا اور اہم ترین اقدام یہ ہے کہ دہشتگردوں کا قلع قمع کر کے ، قابض اور بن بلائے غیرملکی فوجیوں کو باہر نکال کر ، غاصبانہ قبضے کا خاتمہ کیا جائے اورشامی سرحدوں کو محفوظ بنا کر شام کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کی ضمانت فراہم کی جائے۔
مجید تخت روانچی نے شام کے بنیادی ڈھانچوں کی از سرنو تعمیرکی کوشش ، پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی وطن واپسی کیلئے حالات سازگار بنانا اور شام کے سیاسی عمل میں تیزی لانے کو شام کے بحران کے حل کے لئے دیگر ضروی اقدامات میں قرار دیا ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس بحران کا واحد حل، بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق پرامن طریقہ کار اپنا نا ہے کہ جویقینا کم وقت میں میسر نہیں ہو گا اور اس پر مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے -
مجید تخت روانچی نے کہا کہ یہ پوری طرح واضح ہے کہ بعض ممالک نے جو شام میں فوجی ذرائع یا سیاسی ہتھکنڈوں سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے ہیں اب پابندیاں عائد کرکے کھانے پینے کی چیزوں اور ادویات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہےاور ایک قوم کے غذائی تحفظ کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں جو کہ غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔
انھوں نے کہا کہ پابندیاں عائد کرنے کا مقصد ایک پوری قوم کو سزا دینا ہے اور یہ قانونی لحاظ سے اقوام متحدہ کے اصولوں اور اہداف کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسی بنا پر ان پابندیوں کو فوری طور پر خاتم کرنا چاہئے ۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ شام کے بحران کا طویل مدت اور پائیدار راہ ، اس ملک میں جنگ کا سلسلہ بند کرنا ، اس کے اقتداراعلی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرنا ، یکطرفہ پابندیوں کوختم کرنا ، انسان دوستانہ موضوعات کے سلسلے میں سیاسی رویہ اختیار نہ کرنا اور پناہ گزینوں اور مہاجرین کی وطن واپسی کی زمین ہموار کرنا ہے ۔
تخت روانچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شام کے بحران کے سیاسی حل، اس کی ارضی سالمیت اوراس کے اتحاد کو یقینی بنانے کے لئے اس ملک کے عوام اور حکومت کی حمایت کرتا رہے گا ۔