Jun ۰۲, ۲۰۲۱ ۱۸:۴۴ Asia/Tehran
  • ایران کا جوہری مسئلہ پرامن طریقے سے حل کیا جانا ضروری ہے: برکس تنظیم

برکس کے رکن ملکوں نے ایران کا جوہری مسئلہ پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برازیل، روس، چین، ہندوستان اور جنوبی افریقہ پر مشتمل برکس کے وزرائے خارجہ نے اپنے اجلاس کے اختتامی بیان میں کہا ہے کہ تنظیم ایران کا جوہری مسئلہ پُرامن اور سفارتی طریقے نیز بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کئے جانے کی خواہاں ہے۔

برکس کے وزرائے خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۲۳۱ پر مکمل طور پر عمل درآمد کئے جانے کے خواہاں ہیں۔ برکس کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں ایران اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے درمیان تکنیکی سمجھوتے کی مدت میں ہونے والی توسیع کا خیرمقدم کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر میں تعینات ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران ایٹمی معاہدے سے ہٹ کر کوئی مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔ ویانا میں جاری مذاکرات کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو میں کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ مذاکرات اہم اور بنیادی معاملات تک پہنچ گئے ہیں اور تین مختلف شعبوں منجملہ پابندیوں کے خاتمے، جوہری وعدوں اور ان پر عمل کے طریقوں کے بارے میں مفاہمت کے متن کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اسی کے ساتھ واضح کیا کہ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے ایٹمی معاہدے سے ہٹ کر کسی مطالبے کو قبول نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈاکوارٹر میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ پہلے تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور اس بات کا اطمینان حاصل کیا جائے کہ پابندیاں عملی طور پر ختم ہوگئی ہیں پھر تہران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد دوبارہ شروع کرے گا۔ کاظم غریب آبادی نے کھل کر کہا کہ اگرچہ مذاکرات اہم اور بنیادی معاملات تک پہنچ گئے ہیں تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ مذاکراتی وفود ضروری صلاح و مشورے کی غرض سے اپنے اپنے دارالحکومتوں کو واپس لوٹ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی واضح ہے کہ جن معاملات پر بات چیت جاری ہے اگر وہ حل نہ ہوئے تو کسی سمجھوتے کا امکان نہیں رہے گا۔یاد رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے مئی دو ہزار اٹھارہ میں یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قدم اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی کا اعلان کر دیا تھا تاکہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے جیسے اشتعال انگیز اقدامات بھی انجام دئے۔

امریکہ کی موجودہ جوبائیڈن انتطامیہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی شکست سے دوچار رہی ہے۔ بائیڈن حکومت نے اسی کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے میں واشنگٹن کی واپسی کی خواہاں ہے لیکن اس نے اب تک اس سلسلے میں کوئی عملی و موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔

تہران نے صاف اور واضح لفظوں میں اعلان کر دیا ہے کہ چونکہ امریکا یک طرفہ اور غیر قانونی طور پر معاہدے سے نکلا ہے اس لئے وہ پہلے معاہدے میں واپس آئے اور سبھی پابندیاں ختم کرے۔ جب ایران کو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ اس کے خلاف سبھی امریکا پابندیاں عملی طور پر ختم ہو چکی ہیں، تو ایران ان اقدامات کی جانب واپس پلٹ جائے گا جو اس سے معاہدے کی شق نمبر چھبیس کے مطابق ترک کر دئے تھے۔

ٹیگس