جھوٹا پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، اس میں شدت کی وجوہات ہیں: ترجمان وزارت خارجہ
ایران کے سلسلے میں جھوٹا پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں مگر حالیہ برسوں کے دوران اُس میں شدت کی مختلف وجوہات ہیں، یہ بات ایران کے ترجمانِ وزارت خارجہ ناصر کنعانی نے کہی۔
سحر نیوز/ایران: گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں ایران کے مختلف علاقوں میں دشمن طاقتوں اور بیگانہ ذرائع ابلاغ کی شے پر بلووں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے دوران مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے علاوہ مغربی حمایت یافتہ فارسی زبان ایران مخالف چینلوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایرانی عوام کے حقوق اور انکی آزادی کے دفاع کے نعرے کے ساتھ بڑا فعال کردار ادا کیا۔
ایران مخالف محاذ میں سرگرم سبھی عناصر نے مل کر یہ کوشش کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا کر کے عوام کو اپنی حکومت و نظام کے خلاف ورغلا کر میدان میں اتار دیا جائے تاہم ایرانی عوام نے اپنی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس کے برخلاف مختلف موقعوں پر لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اپنی قیادت اور نظامِ اسلامی کے ساتھ اعلان وفاداری کیا۔
اسی تناظر میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ایران کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نسل پرست صیہونی حکومت سیاسی خلفشار، بلووں اور اندرونی بحران کا شکار ہو چکی ہے، اور ایسی صورت میں حقائق کو چھپانے سے صیہونی حکومت کے حتمی زوال کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران غاصب صیہونیوں کا نتن یاہو کی سرکردگی میں خود اپنی حکومت کے خلاف وسیع مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں خاصی شدت آ چکی ہے اور نوبت یہ آ گئی ہے کہ صیہونی پولیس تمام تر شدت کے ساتھ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کی سرکوبی پر اتر آئی ہے۔