Aug ۳۱, ۲۰۲۵ ۱۷:۰۰ Asia/Tehran
  • صدر پزشکیان کا دورہ چین، تہران اور بیجنگ کے تعلقات کا نیا باب

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سینیئر رکن علاء الدین بروجردی نے صدر پزشکیان کے دورہ بیجنگ کو، ایران اور چین کے تعلقات کا نیا باب قرار دیا۔

سحرنیوز/ایران: انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے علاوہ اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات اور گفتگو کریں گے اور اس دوران دونوں ملکوں کے 25 سالہ تعاون کے معاہدے پر عملدرامد کی رفتار میں تیزی لانے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔

علاء الدین بروجردی نے کہا کہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیاں لوٹانے پر مبنی یورپی ٹرائیکا کی کوشش کا بھی ایران اور چین کے صدور جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اور شنگھائی پلس اجلاس میں شرکت سے معیشت، توانائی، تجارت، سیکورٹی، دفاع اور ٹرانزٹ سمیت متعدد شعبوں میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کا راستہ ہموار ہوگا۔

علاء الدین بروجردی نے کہا کہ ایران نے سن 2023 میں اس تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل کی تھی اور اس وقت سے لیکر اب تک اس تنظیم کے رکن ممالک کے مابین تعلقات میں فروغ کے لیے متعدد تجاویز اور منصوبے پیش کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے ایران اور چین کے مابین 25 سالہ جامع تعاون کے منصوبے کی جانب اشارہ کیا کہ جس کے اسناد پر دونوں ممالک دستخط اور اسے منظور کرچکے ہیں۔

ایران کے سینیئر رکن پارلیمنٹ علاء الدین بروجردی نے کہا کہ صدر پزشکیان اس سے قبل شی جن پنگ سے ملاقات میں چین کو ایران کا سب سے اہم تجارتی حلیف قرار دیا تھا اور ضرورت اس بات کی ہے کہ تعاون کے مشترکہ منصوبے کے تحت دونوں ملک بنیادی تنصیبات، قابل تجدید توانائیوں، تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ کریں۔

قابل ذکر ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اتوار 31 اگست 2025 کو شنگھائی تعاون تنظیم اور "شنگھائی پلس" کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین روانہ ہوچکے ہیں۔

ان دونوں اجلاس میں مجموعی طور پر 30 ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کی شرکت کریں گے۔

ایران کے صدارتی دفتر کے مطابق، یہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ چین ہے۔

ٹیگس