ایران نے 47 سال سے کوئی جنگ شروع نہیں کی، یورپ غیر مؤثر اور ناکام ہے: علی شمخانی
سپریم ڈیفنس کونسل میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران نے پچھلے 47 برس کے دوران کوئی جنگ شروع کی ہے نہ کریں گے لیکن کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سحرنیوز/ایران: المیادین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے علی شمخانی کا کہنا تھا کہ جنگ صرف گولیوں کی گولیوں اور توپوں کی آواز کا نام نہیں ہے۔ ہم اس وقت بھی حالت جنگ میں ہیں اور ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ عملی مذاکرات کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے اور یہ کہ جنگ کو روکنا ممکن ہے۔
سپریم ڈیفنس کونسل میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے نے کہا کہ انہوں نے (امریکہ) ہمیں تجاویز بھیجی ہیں، اور اگر یہ تجاویز دھمکیوں اور دھونس سے پاک ہیں اور ان میں معقول شرائط شامل ہیں، تو ہم کسی المیے کو روکنے کی امید کر سکتے ہیں۔
علی شمخانی واضح کیا کہ تہران نے صرف واشنگٹن کے ساتھ عملی مذاکرات کے لیے آمادگی کا اعلان کیا ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں تک یورپ کے کردار کا تعلق ہے تو یورپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کچھ کرنے سے قاصر ہے۔
انہوں کہا کہ ٹرمپ خود یورپ کو مذاکرات میں آنے کی اجازت نہیں دے گا لہذا مذاکرات صرف امریکہ کے ساتھ اور جوہری معاملے تک محدود ہوں گے۔
سپریم ڈیفنس کونسل میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے نے کہا کہ اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ دو بنیادی شرائط پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور ناجائز مطالبات سے امریکہ کی دستبرداری مذاکرات کی دو بنیادی شرطیں ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
علی شمخانی نے کہا کہ مذاکرات کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ مذاکرات صرف ایٹمی مسئلے تک محدود رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ہم سجھتے ہیں کہ امریکہ اور صیہونی حکومت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی حکومت جنگ میں شریک ہے اور ہم مناسب جواب دیں گے اور اسرائیل کے خلاف ہمارا ردعمل یقینی ہے۔
سپریم ڈیفنس کونسل میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہر جارحیت، خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، ایک بڑے بحران میں بدل جائے گی، جس کا امریکہ اور صیہونی حکومت نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔