بشار اسد کے بغیر شام کے بحران کا حل ممکن نہیں ہے: جین فریڈریک
-
بشار اسد کے بغیر شام کے بحران کا حل ممکن نہیں ہے: جین فریڈریک
شام کا دورہ کرنے والے فرانس کے پارلیمانی وفد کے سربراہ جین فریڈریک نے کہا ہے کہ بشار اسد کو الگ کر کے شام کا بحران حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
شام کا دورہ کرنے والے فرانسیسی پارلیمانی وفد کے سربراہ جین فریڈریک نے دمشق میں شام کی پارلیمنٹ کے اسپیکر جہاد لحام سے مذاکرات کے بعد کہا کہ صدر بشار اسد کوالگ کرکے شام کا بحران حل کرنا ناممکن ہے -
فرانس کی پارلیمنٹ میں کرشچین ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے رکن پارلیمنٹ اور شام کے دورے پر آئے پارلیمانی وفد کے سربراہ نے صاف لفظوں میں کہا کہ بشاراسد کو شام کےعوام نے عہدہ صدارت کے لئے منتخب کیا ہے اور اس ملک کا بحران صدربشار اسد سے بات چیت کے ذریعے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتاہے -
فرانس کے پارلیمانی وفد کےسربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فرانس اوربعض دیگر مغربی ممالک بشاراسد کی اقتدار سے علیحدگی کا غیر قانونی مطالبہ کررہے ہیں اور اس کے لئے وہ دہشت گردوں کی ہر طرح کی حمایت کررہے ہیں -
دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے مندوب نے شامی حکومت کے مسلح مخالفین کے لئے امریکا کی بڑے پیمانے پر مالی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن شامی حکومت اور عوام کے دشمن دہشت گردگروہوں کی پانچ سوملین ڈالر کی مدد کرنے کےبجائے پناہ گزینوں کےبحران اوراسی طرح دیگر انسانی بحرانوں کے حل کے لئے خرچ کرسکتا تھا-
اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بشارجعفری نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو شام کےعام شہریوں کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہوا تھا کہاکہ امریکا نے نام نہاد اعتدال پسند دہشت گردوں کو پانچ سوملین ڈالر کی مدد دی ہے جبکہ وہ شام کے بحران کا شکار شامی شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے یہ رقم خرچ کرسکتا تھا -
اقوام متحدہ میں شام کے مندوب نے سعودی عرب اور قطر پرالزام لگایا کہ یہ دونوں ممالک دہشت گرد گروہوں کی بھرپور حمایت کررہے ہیں -
واضح رہے کہ امریکی حکومت نے کچھ عرصے قبل شام میں حکومت کے مخالف مسلح گروہوں کو پانچ سوملین ڈالرامداد دینے کا اعلان کیا تھا اس کے علاوہ اس نے سیکڑوں کی تعداد میں دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کرشام بھیجا ہے-