Nov ۱۶, ۲۰۱۵ ۱۸:۲۳ Asia/Tehran
  • بحرینی عدالت کی جانب سے دوسیاسی کارکنوں کو سزائے موت کا حکم
    بحرینی عدالت کی جانب سے دوسیاسی کارکنوں کو سزائے موت کا حکم

بحرین کی ایک نمائشی عدالت نے پیر کو بھی پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں دو سیاسی کارکنوں کو سزائے موت، ایک کو عمر قید اور چند دیگر افراد کو طولانی قید کی سزائیں سنائی ہیں

شاہی حکومت کی اس نمائشی عدالت نے سن دوہزار چودہ میں ہونے والے بم دھماکے میں بارہ افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت کے بعد دو افراد کو موت کی، ایک کو عمر قید اور باقی کو چھے چھے سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کے روز بحرین کی ایک نمائشی عدالت نےبارہ افراد کی شہریت منسوخ اور تین سے آٹھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
دوسری جانب بحرین کی آمریت مخالف جماعت جمعت وفاق ملی نے حکومت کے سیاسی مخالفین کی شہریت سلب کئے جانے کو انقلابی تحریک کو دبانے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
جمیعت وفاق ملی کے جاری کردہ بیان میں شاہی حکومت کے مجرمانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہی حکومت عوامی انقلاب کو سرکوب کرنے کے لئے لوگوں کو شہری حقوق سے محرم کر رہی ہے۔

جمیعت وفاق ملی کے بیان میں ملک کی نمائشی عدالت کی جانب سے بارہ افراد کی شہریت کی منسوخی اور انہیں عمر قید کی سزائیں سنائے جانے کے فیصلے کو مکمل طور سے سیاسی انتقام جوئی قرار دیا ہے۔
اس بیا ن کے مطابق بحرین کی شاہی حکومت اس قسم کے اقدامات کے ذریعے انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ضابطے کے خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت بحرین سیاسی بنیادوں پر ملک کے دوسو شہریوں کی، شہریت منسوخ کرچکی ہے۔

ایک اور اطلاع کے مطابق بحرین کی نو قانونی تنظیموں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بیس نومبر کو ‏عالمی یوم اطفال کے حوالے سے چلائی جانے والی انٹرنیٹ کمپین میں حصہ لے کر انقلابی تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے بچوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کریں۔

کہا جارہا ہے کہ بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے جاری انقلابی تحریک کے آغاز سے اب تک گرفتار ہونے والے بچوں کی تعداد سات سو تک پہنچ گئی ہے۔

ٹیگس