Dec ۱۳, ۲۰۱۵ ۱۶:۳۹ Asia/Tehran
  • ترکی امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ ہموار کر رہا ہے: کریم النوری
    ترکی امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ ہموار کر رہا ہے: کریم النوری

عراق کی عوامی رضاکار فورس کی مشاورتی کمیٹی کے رکن کریم النوری نے عراق میں امریکی منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ترکی کی سازش سے پردہ اٹھایا ہے۔

کریم النوری نے السومریہ نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت عراق کو تین حصوں یعنی شیعہ، سنی اور کرد حصوں میں تقسیم کرنے کے امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے منصوبے پر عمل درآمد کے درپے ہے۔

کریم النوری نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کو ایک مغرور شخص قرار دیا اور انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام دہشت گرد گروہ داعش اور ترکی کے غاصبانہ قبضے میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اور داعش کا راستہ ہموار کرنے والے ہر شخص کا مقابلہ کریں گے۔

ادھرعراق کی ایک اہم سیاسی شخصیت سعد المطلبی نے بھی کہا ہے کہ ترکی نے شمالی عراق کے شہر موصل کے نزدیک اپنے فوجی تعینات کرکے عراق اور شام میں سنیوں کے زیرکنٹرول ایک علاقہ قائم کرنے کی سازش رچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی عراق کے شمال میں اپنے فوجی بھیج کر اس علاقے میں امریکی سازش پر عمل درآمد کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

دوسری طرف ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دعوی کیا ہے کہ عراق نے ایران اور روس کے اشارے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ترکی کی شکایت کی ہے۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوغان نے بغداد کی طرف سے سلامتی کونسل میں عراقی سرزمین پر ترک فوجیوں کی غیرقانونی موجودگی کی شکایت کے رد عمل میں کہا ہے کہ بغداد نے ایران اور روس کے اشارے پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ اردوغان نے عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے پر تاکید کی اور کہا کہ ان فوجیوں کی موجودگی عراق کی کرد پیش مرگہ ملیشیا کی تربیت کے تعلق سے ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ میں عراق کے نمائندے محمد علی الحکیم نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں امریکی ایلچی اور سلامتی کونسل کی موجودہ صدر سامانتھا پاور کو ایک خط لکھ کر عراق میں اپنے فوجیوں کو تعینات کرنے کی وجہ سے ترکی کی شکایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے گزشتہ چار دسمبر کو عراقی کرد پیش مرگہ ملیشیا کو تربیت دینے کے بہانے اپنے دسیوں فوجی عراق کے شمالی صوبے نینوا کے شہر موصل کے نزدیکی علاقے میں داخل کردیئے تھے۔ عراق نے ترک فوجیوں کی واپسی کے لئے ترکی کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی لیکن ترک حکومت نے اعلان کیا کہ اس کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے۔

عراقی عوام اور حکام نے ترکی کے اس اقدام کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ادھر علاقے میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کے حامی تین ممالک سعودی عرب، ترکی اور قطر کا مثلث داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو بچانے کی کوشش بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

تہران سے شائع ہونے والے فارسی اخبار "رسالت" نے اتوار کو ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ داعش گروہ کے مقابلے میں عراقی فوج اورعوامی رضاکار فورس کو مزید کامیابی سے روکنے کے مقصد سے شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی یکم دسمبر کو ہونے والے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے دورہ دوحہ کا نتیجہ ہے۔

مذکورہ اخبار کے مطابق ترکی، سعودی عرب اور قطر کا خیال ہے کہ عراقی کردستان علاقے میں فوجی تربیت کے بہانے اس علاقے میں فوجی بھیج کر عراق کے شمالی صوبے نینوا کے صدر مقام موصل اور دیگر اسٹریٹیجک اور حساس علاقوں میں تکفیریوں کی ناکامیوں کے سلسلے کو روکا جاسکتا ہے۔

ٹیگس