آل سعود یمن میں جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں: انصار اللہ کا الزام
تحریک انصار اللہ یمن کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حملے جاری رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود یمن میں جنگ بندی پر عمل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔
المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انصار اللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے منگل کے روز صوبہ صنعا کے علاقے پر حالیہ ہوائی حملوں اور ان میں کئی یمنی شہریوں کے مارے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہوائی حملے ظاہر کرتے ہیں کہ آل سعود یمن میں جنگ بندی پر عمل کرنا نہیں چاہتی اور نہ ہی وہ قیام امن کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔
تحریک انصار اللہ کے ترجمان نے کہا کہ انصار اللہ تمام تر دشواریوں اور مشکلات کے باوجود یمن پر سعودی جارحیت کو روکنے کے لیے قدم اٹھانا چاہتی ہے لیکن نہ صرف اس کوشش کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے بلکہ مقابل فریق مزید ظلم و ستم پر اتر آیا ہے۔
محمد عبدالسلام نے اس سے قبل بھی سعودی عرب اور اس کے ایجنٹوں کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کو کویت مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کی اصلی وجہ قرار دیا تھا۔
انصار اللہ کے ترجمان نے یمن میں امن عمل کی حمایت کی درخواست کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو کویت مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یمن میں جنگ بندی کے آغاز کے اعلان کے وقت سے یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور سعودی ایجنٹوں نے کئی محاذوں پر پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس پر اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے مسلسل نویں روز جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے۔