Aug ۰۲, ۲۰۱۷ ۱۵:۴۶ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی، گیارہ ستمبر کے مقدمے سے بچنے کی کوشش

سعودی عرب نے ایک امریکی جج سے اپیل کی ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کے ریاض کے خلاف کیس کو خارج کر دیں

رویٹر کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ کی ایک مقامی عدالت کے جج کے نام خط میں میں دعوی کیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کی جانب سے دائر کئے جانے والے مقدمے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان حملوں میں ریاض کا ہاتھ تھا - اس خط میں درخواست کی گئی ہے کہ سعودی عرب کے اقتدار اعلی کا احترام کیا جائے-گیارہ ستمبر کے حملوں میں مرنے والے دوہزار پانچ سو افراد کے اہل خانہ اور بیس ہزار سے زیادہ زخمیوں نے ان حملوں میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس ملک سے اربوں ڈالر ہرجانہ طلب کیا ہے- متاثرین کے ایک وکیل جیمز کریلندر نے سعودی عرب کے اقدام کے سلسلے میں کہا کہ سعودی عرب حقائق سے فرار نہیں کر سکتا- گیارہ ستمبر دوہزار گیارہ کے حملوں کے چند مہینے بعد ہی امریکی کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے تیار کی گئی رپورٹ کے وہ اٹھائیس صفحات کچھ دن پہلے ہی منظرعام پر آئے ہیں جنھیں پہلے خفیہ رکھا گیا تھا- اس رپورٹ کے ایک حصے میں آیا ہے کہ طیاروں کو اغوا کرنے والے بعض افراد امریکا میں ہی مقیم تھے اور ان کی وہ لوگ مدد کررہے تھے جو سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے

ٹیگس