سعودی شہزادہ متعب حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے کے بعد رہا
سعودی عرب میں گرفتار کئے گئے شہزادوں میں سے ایک سابق فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے اور نیشنل گارڈ کے سابق سربراہ متعب بن عبداللہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کی ڈیل کے بعد رہا ہو گئے۔
سعودی عرب میں ایک حکومتی عہدیدار نے کہا ہے کہ متعب بن عبداللہ سعودی حکام کے ساتھ ہونے والی ایک ڈیل کے بعد رہا کر دیئے گئے ہیں اور انہوں نے رہائی کے عوض ایک ارب ڈالر سعودی حکام کو ادا کئے ہیں-
سعودی حکومت نے بھی متعب بن عبداللہ کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے- گذشتہ چار نومبر کو سعودی عرب میں کئی شہزادوں، وزیروں اور بڑے بڑے سرمایہ کاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جن میں سابق فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے اور نیشنل گارڈ کے سابق سربراہ شہزادہ متعب بھی شامل تھے تاہم اب تین ہفتے کے بعد متعب ایک ارب ڈالر سے زائد رقم ادا کرنے کی ڈیل کے بعد رہا ہو گئے-
کہا جا رہا ہے کہ ان شہزادوں، وزیروں اور سرمایہ کاروں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ماہرین نے اسے موجودہ ولیعہد محمد بن سلمان کے ذریعے نرم بغاوت کا نام دیا ہے تاکہ وہ حکومت پر اپنی گرفت پوری طرح مضبوط کر سکیں-
مغربی ذرائع ابلاغ منجملہ برطانوی اخبار گارڈین نے اس سے پہلے خبر دی تھی کہ سعودی عرب میں شہزادوں، وزیروں اور سرمایہ کاروں کی گرفتاری کا مقصد گرفتار لوگوں کی دولت سے حکومتی خزانے کو پر کرنا ہے تاکہ ملکی بجٹ خسارے کو کم کیا جا سکے-
خیال کیا جاتا ہے کہ صرف شہزادہ متعب بن عبداللہ کے پاس اربوں ڈالر کی دولت ہے- اس درمیان مغربی میڈیا نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں گرفتار مزید تین سعودی شخصیات نے حکومت سے ڈیل کر لی ہے تاہم ابھی ان تینوں کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں-
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں مزید شہزادوں اور شاہی خاندان کی عورتوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور جس ہوٹل میں ان لوگوں کو رکھا جا رہا ہے اس کو سب جیل قرار دیا گیا ہے-
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ جس ہوٹل میں ان شہزادوں کو رکھا گیا ہے وہ الشرقیہ صوبے میں ہے اور اس کا نام مریدین ہوٹل ہے- ابھی حال ہی میں کئی سعودی شخصیات اور شہزادوں کو جن میں سابق وزیر زراعت فہد بن عبدالرحمن بالغنیم، سابق گورنر زائد بن فہد السکیبی اور ایک سابق سینیئر عہدیدار جمال بن ناصر الملحم شامل ہیں، مریدین ہوٹل منتقل کیا گیا ہے-
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کرپشن کے الزام میں شاہی خاندان کی گرفتار کی گئی عورتوں اور لڑکیوں کے لئے بھی ایک خصوصی جیل بنائی گئی ہے۔