Aug ۰۱, ۲۰۱۸ ۱۸:۰۵ Asia/Tehran
  • یمن پر وحشیانہ سعودی جارحیت

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اپنی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے رہائشی علاقے پربمباری کی ہے جس میں دو عام شہری شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

یمن کے شمالی صوبے صعدہ پر سعودی جنگی طیاروں کے تازہ ترین حملے میں  دو  افراد شہید ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ اس حملے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔ اس سے قبل بھی سعودی جنگی طیاروں نے یمنی عوام کو خاک و خون میں نہلایا تھا۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت  سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ خوراک کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایف پی نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ یمن اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بدترین غذائی قلت کے بحران سے دوچار ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسّی لاکھ سے زائد یمنی شہری شدید بھوک مری کا شکار ہیں اور وہ پوری طرح بیرون ملک سے پہنچنے والی غذائی امداد پر ہی بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی نے اس سے پہلے بھی پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اٹھارہ ملین یمنی باشندوں کوغذائی قلت کا سامنا ہے اور انہیں کھانے پینے کی صحیح چیزیں میسر نہیں ہیں۔

دوسری جانب جنگی میدان میں یمنی فوج اور عوامی رضا کارفورس نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے جواب میں بدھ کو ایک بار پھر یمن کے مغربی ساحلوں پر واقع سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا ہے۔ یمنی ذرائع نے منگل کو بھی کہا تھا کہ جنوبی مغربی صوبے تعز میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر زلزال دو میزائل سے حملہ کیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے سال دوہزار اٹھارہ کے آغاز سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر اپنے میزائلی حملے تیز کردئےہیں۔ رواں سال کو یمنی فوج اور عوام نے یمنی میزائل کا سال قرار دے رکھا ہے۔ یمنی فوج نے اپنے میزائلی حملوں میں سعودی عرب میں انتہائی حساس ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ٹیگس