یمنی فوج کا سعودی فوجی ٹھکانوں پر میزائلی حملہ
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں یمنی فوج نے اپنے میزائلی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک بارپھر یمن کے مغربی ساحل پر سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج نے اپنے میزائلی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک بارپھر یمن کے مغربی ساحل پر سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یمنی فوج اور عوامی رضا کارفورس نے المصلوب کے علاقے میں بھی سعودی عرب کی فوجی چھاؤنی کو بدر ایک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ یمنی فورسز نے نجران میں واقع سعودی فوجی چھاؤنی الواجب پر بدر ایک میزائل سے حملہ کیا ہے۔ یمنی فوج کے مطابق اس نے العسیر میں بھی توپخانہ سے گولہ باری کی ہے۔ یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے سعودی عرب کے وحشیانہ ہوائی حملوں کے جواب میں مارب میں بھی سعودی عرب کی فوجی چھاؤنی کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
یمن سے ہی ایک خبر یہ بھی ہے کہ دو خودکش حملہ آوروں نے یمن کے جنوبی صوبے الضالع کے شہر قعطبہ کے بازار میں خود کو دھماکوں سے اڑا لیا۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب ایک موٹر سائیکل پر سوار دو خود کش حملہ آوروں نے ایک فوجی گاڑی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
اس درمیان یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات کی بحالی اور ملک میں جنگ کے خاتمے کے لئے ایک وسیع البنیاد منصوبہ پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔
انصاراللہ کے ترجمان محمدعبد السلام نے کہا کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس کا منصوبہ بہت ہی جزوی اور کمزور ہے اور اس میں سیاسی عمل کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاراللہ کے مد نظر منصوبہ یہ ہے کہ ایک وسیع البنیاد حل تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے ایک نئے صدر کا انتخاب ہو اور عبوری صدارتی کونسل پوری طرح سے معین ہو۔
انصار اللہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عبوری دور کے صدر کو ایسا ہونا چاہئے جو سبھی یمنی گروہوں کے لئے قابل قبول ہو اور اس کے بعد جو بھی عبوری حکومت برسر اقتدار آئے وہ کسی بھی جماعت کی مخالفت نہ کرے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے۔