سعودی فوجی اڈوں پر یمنی فوج کا میزائل حملہ
یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائل یونٹ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں جیزان اور نجران میں سعودی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے- اس درمیان خبروں میں کہا گیا ہے کہ یمنی فوج نے اپنی کارروائیوں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے چھیاسٹھ فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔
یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس کے میزائل یونٹ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں جیزان اور نجران میں سعودی فوجی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے-
یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب میں فائر کئے گئے میزائل زلزال ایک قسم کے تھے-
اس سے پہلے یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا تھا کہ جب تک یمن کا محاصرہ اور یمن پر وحشیانہ سعودی جارحیت جاری رہتی ہے اس وقت تک سعودی فوجی اڈوں اور اقتصادی تنصیبات کو یمنی فوج کے میزائلوں سے نشانہ بنایا جاتا رہے گا-
اس درمیان المیادین ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن کے مغربی ساحل پر الجبلیہ علاقے میں جارح سعودی فوج کے اڈوں پر گولہ باری کی ہے جس میں دس سے زائد سعودی اور اس کے اتحادی فوجی ہلاک ہوئے ہیں-
العالم ٹیلی ویژن چینل نے بھی خبر دی ہے کہ مختلف محاذوں پر یمنی فوج کے اسنائپروں نے چھپن سے زائد سعودی اور سعودی عرب کے اتحادی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا-
المسیرہ ٹی وی نے بھی خبر دی ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن کے شمالی صوبے الجوف کے الخلیفین محاذ پر سعودی فوج کی ایک گاڑی کو تباہ کر دیا اور اس میں سوار سبھی سعودی فوجی ہلاک ہو گئے۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کے بعد بھی یمنی فوج کی دفاعی توانائیوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے-
یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات، اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے-
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے اس طرح کے ظالمانہ اقدامات اور محاصرے کے بعد آل سعود حکومت اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکی ہے۔